مہر نیوز ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں سوگ، احتجاج اور یکجہتی کے اظہار کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کراچی، پاراچنار، گلگت، بلتستان، کوئٹہ، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور راولپنڈی سمیت مختلف علاقوں میں تعزیتی اجتماعات، ریلیاں اور یکجہتی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔
اس واقعے کے بعد پاکستان میں مختلف شیعہ جماعتوں، تنظیموں اور مذہبی حلقوں کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی پیدا ہوئی اور کئی برسوں بعد متعدد تنظیموں نے مشترکہ طور پر تعزیتی اور یادگاری پروگراموں کا انعقاد کیا۔ مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے ان تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے شہید رہبر کے فلسطینی کاز کی حمایت، استقامت اور عالمی سطح پر ان کے کردار کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اسی تناظر میں جامعہ المنتظر پاکستان میں منعقد پروگرام میں مختلف شیعہ جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی، اتحاد برقرار رکھنے اور شہید رہبر کے افکار و خدمات کو اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں لاہور کے تاریخی مقام مینارِ پاکستان پر ایک بڑے عوامی اجتماع کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا۔
مینار پاکستان پر اجتماع کی اہمیت
منتظمین کے مطابق مینار پاکستان کا انتخاب خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ مقام پاکستان کی قومی شناخت اور تاریخی اجتماعات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقام پر منعقد ہونے والا اجتماع امتِ مسلمہ کے اتحاد، قومی یکجہتی اور عوامی حمایت کا واضح پیغام دے گا۔
منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 1987ء میں شہید علامہ سید عارف حسین حسینی کی قیادت میں شیعوں نے اسی مقام پر ایک بڑا اجتماع منعقد کیا تھا، جس کا مقصد شیعیان پاکستان کے اتحاد اور سماجی قوت کا اظہار تھا۔ ان کے مطابق موجودہ اجتماع کو کئی دہائیوں بعد اس نوعیت کا دوسرا بڑا شیعہ اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔
مینار پاکستان اجتماع امت کے اتحاد کی علامت
حوزۂ علمیہ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مینارِ پاکستان کا اجتماع نہ صرف امتِ مسلمہ کے اتحاد اور قومی یکجہتی کا عظیم مظہر ثابت ہوگا بلکہ پاکستان کا مثبت، پرامن اور ذمہ دار تشخص بھی دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’’شہیدِ امت‘‘ کا راستہ امت کے اتحاد، استقامت اور مظلوموں کی حمایت کا راستہ ہے اور پاکستانی عوام ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اپنا اخلاقی، انسانی اور قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت بدامنی، دہشت گردی اور مختلف داخلی و خارجی چیلنجز سے دوچار ہے، تاہم شیعیان پاکستان اور دیگر محبِ وطن عناصر ملک میں امن، استحکام، وحدت اور ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے پنجاب حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع تمام سرکاری ضابطوں اور مقررہ قواعد کے مطابق منعقد کیا جائے گا۔
اس موقع پر علامہ محمد امین شہیدی نے بتایا کہ مختلف شیعہ اور سنی مذہبی و سیاسی جماعتوں، بشمول جماعتِ اسلامی، کو بھی اجتماع میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جبکہ علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ اجتماع کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے۔
اجتماع کے انتظامات کا جائزہ
اجتماع سے قبل منتظمین اور انتظامی کمیٹی کے ارکان نے مینارِ پاکستان کا دورہ کیا اور وہاں جاری تیاریوں کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران شرکاء کی نشستوں، سکیورٹی انتظامات، سہولیات، اسٹیج اور دیگر انتظامی امور کا معائنہ کیا گیا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ اجتماع کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجتماع عوام، مذہبی رہنماؤں اور مختلف سماجی و سیاسی شخصیات کی وسیع شرکت کے باعث پاکستان کی شیعہ تاریخ کے اہم ترین عوامی اجتماعات میں شمار ہوگا۔
