خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے لیے جارحیت کا خاتمہ ضروری ہے، ایران

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایروانی نے زور دے کر کہا ہے کہ مشرق وسطی میں پائیدار امن اور سلامتی کے قیام کے لیے عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ، قبضے اور جارحیت کا اختتام اور علاقائی ممالک کے درمیان مکالمے کا فروغ ناگزیر ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں مستقل استحکام کا انحصار ممالک کی خودمختاری کے احترام، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور علاقائی ریاستوں کے باہمی تعاون پر ہے۔

ایروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل کو تنازعات اور عدم استحکام کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینی چاہیے، جن میں فلسطینی، لبنانی اور شامی علاقوں پر مسلسل قبضہ، پورے خطے میں اسرائیلی جارحیت اور امریکہ کی طویل فوجی موجودگی شامل ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں سے عدم اعتماد اور کشیدگی کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک قبضہ اور جارحیت جاری رہے گی، اس کے خلاف مزاحمت بھی جاری رہے گی۔

ایرانی مندوب نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات خصوصا ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ، اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ خلیج فارس میں غیر ملکی فوجی موجودگی خطے کے لیے دیرپا سلامتی فراہم نہیں کر سکتی۔ پائیدار امن صرف علاقائی ممالک کے درمیان مکالمے، تعاون اور اعتماد سازی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سعید ایروانی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 8 اپریل کی جامع جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزی کی ہے۔ ایران اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے حق دفاع کا استعمال کرتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی کسی بھی جارحیت کے جواب میں اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے دفاع کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے مکمل ذمہ دار ہوں گے۔

ایروانی نے زور دیا کہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال کے ذریعے کوئی پائیدار معاہدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف اپنی مسلسل دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کی باتوں سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی دھمکیوں اور دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کیے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔ اگر واشنگٹن واقعی سفارتی حل کا خواہاں ہے تو اسے دھمکیوں کی زبان ترک کرکے باہمی احترام، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کی بنیاد پر ایران کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *