
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ شب ایران پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کے خطرناک نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوگی۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ امریکی حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ پہلے سے موجود جنگ بندی کو بھی عملی طور پر بے معنی بنا چکے ہیں۔
بیان کے مطابق بعض علاقائی ممالک کی سرزمین، سہولیات اور وسائل کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ ممالک بھی جارحیت میں شریک تصور کیے جا سکتے ہیں۔ ایران نے خطے کے تمام ممالک کو ان کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی سرزمین، سلامتی اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے جائز حق استعمال کرتے ہوئے حملوں کے مراکز اور ذرائع کا مقابلہ کرتا رہے گا۔
بیان میں اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف واضح اور مؤثر مؤقف اختیار کریں۔ ان کی خاموشی یا غیر واضح ردعمل مزید بدامنی اور قانون شکنی کو فروغ دے سکتا ہے۔
