امریکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات کے خلاف مزید کارروائیوں کی منظوری دینے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے عمل کو غیر ضروری طور پر طول دے رہا ہے اور یہ طرز عمل قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران نے معاہدے تک پہنچنے کے کئی مواقع ضائع کیے ہیں۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دو روز کے دوران خطے میں فضائی حملوں اور عسکری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
