ایران اپنے دفاع کا حق استعمال میں کسی تذبذب کا شکار نہیں ہوگا، وزارت خارجہ کا سخت انتباہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ملک کے جنوبی علاقوں پر کیے گئے حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران اپنے قانونی حق دفاع کے استعمال میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کرے گا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے کو جواز بنا کر ایران کے جنوبی علاقوں پر حملے کیے، جو اقوام متحدہ کے منشور خصوصاً آرٹیکل 2 کی شق 4 اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی ممانعت کی صریح خلاف ورزی ہے۔

بیان کے مطابق امریکی جارحیت اور ایران کی قومی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے اپنے فطری حقِ دفاع کے تحت خطے میں موجود ان امریکی اڈوں اور اثاثوں کو شدید نشانہ بنایا جو ان حملوں کا مرکز تھے۔

وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی کو مجرمانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک سمیت تمام علاقائی ریاستوں کو یاد دلایا کہ ان پر قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو اپنی سرزمین یا سہولیات ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کرنے دیں۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت حملوں کے مراکز، فوجی اڈوں اور ان لاجسٹک تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا جو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی، حمایت یا عمل درآمد میں استعمال ہوں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ، بالخصوص سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل پر بھی زور دیا کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ اور جارح ممالک کو جوابدہ بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *