
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں مختلف تجاویز اور مذاکراتی مراحل سامنے آئے ہیں، تاہم کئی اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جنگ بندی یا سیاسی معاہدے کو صرف دو طرفہ معاملات تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ تہران کے نزدیک لبنان کو معاہدے سے باہر رکھنا بحران کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے مختلف تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور پائیدار استحکام کے لیے لبنان سمیت تمام متعلقہ محاذوں کو حل کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
مغربی مبصرین عموماً ایران اور امریکہ کے مذاکرات کو جوہری پروگرام اور پابندیوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں، تاہم تہران کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے کے بحران الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں ایک جامع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ایران کے نزدیک لبنان کی سلامتی، فلسطین کی صورتحال، عراق کے حالات اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات سب ایک ہی علاقائی مساوات کا حصہ ہیں۔ اسی لیے تہران سمجھتا ہے کہ اگر کسی معاہدے میں صرف ایک پہلو کو حل کیا جائے اور دیگر کشیدگی پیدا کرنے والے عوامل کو نظر انداز کر دیا جائے تو ایسا معاہدہ پائیدار ثابت نہیں ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکہ واقعی خطے میں کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تو اسے ان بنیادی عوامل پر بھی توجہ دینا ہوگی جو عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں۔ تہران کے نقطۂ نظر سے لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ پر جاری فوجی دباؤ انہی اہم عوامل میں شامل ہیں۔ لبنان کو جنگ بندی کے دائرے سے باہر رکھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ خطے میں کشیدگی کے اسباب بدستور موجود رہیں گے، جس کے نتیجے میں کسی بھی سیاسی سمجھوتے یا سکیورٹی معاہدے کی پائیداری متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی بنا پر تہران لبنان کو کسی بھی وسیع تر علاقائی جنگ بندی معاہدے کا لازمی جزو قرار دیتا ہے۔
حزب اللہ؛ ایران کی علاقائی طاقت کا اہم عنصر
ایران کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تہران کی اسٹریٹجک سوچ میں حزب اللہ کا کیا مقام ہے۔ مغربی تجزیوں میں عموماً حزب اللہ کو ایک لبنانی فریق یا علاقائی مسلح گروہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن ایران کے نزدیک حزب اللہ کئی دہائیوں میں تشکیل پانے والے ایک علاقائی دفاعی نظام کا حصہ ہے۔
تہران کے نقطۂ نظر سے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان ہونے والی متعدد جنگوں کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسرائیل کی فوجی برتری صرف اسی وقت محدود ہو سکتی ہے جب خطے کے فریق مؤثر دفاعی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی تناظر میں ایران حزب اللہ کو محض ایک سیاسی اتحادی نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کے اہم ستونوں میں سے ایک سمجھتا ہے۔
اسی وجہ سے ایران لبنان پر مسلسل حملوں یا حزب اللہ کو کمزور کرنے کی کوششوں کو صرف لبنان کا داخلی معاملہ نہیں سمجھتا، بلکہ انہیں خطے کے سکیورٹی توازن کو تبدیل کرنے کی ایک وسیع تر کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس زاویے سے ایران کے نزدیک ایسا کوئی معاہدہ، جو اس کے اہم ترین علاقائی اتحادیوں میں سے ایک کی سلامتی کو نظر انداز کرے، اسٹریٹجک اہمیت نہیں رکھتا۔
ایرانی فیصلہ سازوں کے مطابق ماضی کے کئی معاہدوں کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ وہ صرف ایک مخصوص مسئلے کے حل پر مرکوز رہے، جبکہ کشیدگی پیدا کرنے والے دیگر عوامل بدستور موجود رہے۔ نتیجتاً معاہدوں کے باوجود بداعتمادی اور تناؤ کا سلسلہ دوبارہ جنم لیتا رہا۔
اسی لیے تہران کی کوشش ہے کہ مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی ممکنہ معاہدہ صرف ایک تکنیکی یا عارضی سمجھوتہ نہ ہو، بلکہ ایک ایسے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہو جو پورے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہو۔
علاقائی سیکورٹی اور تہران کی حکمت عملی
حالیہ برسوں میں ایران بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ علاقائی سلامتی کو انتخابی یا جزوی انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ تہران کے نزدیک یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ ایران کشیدگی میں کمی یا بعض پابندیوں کو قبول کرے، جبکہ اس کے علاقائی اتحادی مسلسل فوجی اور سکیورٹی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوں۔
یہ سوچ اس نظریے پر مبنی ہے کہ خطے کے تمام ممالک اور مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران کے مطابق اگر خطے کے کسی ایک حصے میں بدامنی یا کشیدگی پیدا ہو تو اس کے اثرات جلد ہی دوسرے علاقوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام اہم فریقوں اور کشیدگی کے اسباب کو ایک ساتھ مدنظر رکھا جائے۔
اسی بنیاد پر ایران کا خیال ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کوئی ثانوی یا ضمنی مسئلہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی بنیادی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ تہران کے نقطۂ نظر سے ایسا معاہدہ جس میں لبنان کو نظر انداز کیا جائے، وہ صرف بحران کے ایک حصے کو سنبھال سکے گا جبکہ عدم استحکام کے اسباب اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔
تہران کیوں جامع معاہدے پر زور دیتا ہے؟
کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کو شامل کرنے پر ایران کا اصرار درحقیقت واشنگٹن کے لیے ایک اسٹریٹجک پیغام بھی ہے۔ اس پیغام کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایک دیرپا اور مؤثر معاہدے کے لیے علاقائی بحرانوں کو جامع انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔
تہران کے حساب سے اگر امریکہ صرف کسی ایک مخصوص تنازع کو حل کرنا چاہتا ہے، جبکہ لبنان، فلسطین یا خطے کے دیگر حصوں میں کشیدگی کو جاری رہنے دیتا ہے، تو ایسا کوئی بھی معاہدہ مستقبل میں ناکامی یا ٹوٹ پھوٹ کے خطرے سے دوچار رہے گا۔ دوسرے الفاظ میں ایران اپنی قومی سلامتی اور اپنے علاقائی اتحادیوں کی سلامتی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھتا۔
حالیہ برسوں کی پیش رفت کے بعد یہ نقطۂ نظر مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ علاقائی تنازعات میں اضافہ، سرحد پار حملوں کا پھیلاؤ اور جغرافیائی سیاسی رقابتوں کی شدت نے ایران کو اس بات پر مزید زور دینے پر آمادہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایک جامع اور مربوط علاقائی سلامتی کے نظام کی ضرورت ہے۔
حاصل سخن
لبنان کا مسئلہ درحقیقت ایک وسیع تر بحث کا طالب ہے۔ ایران صرف ایک ملک میں جنگ بندی کا خواہاں نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی ایک نئی حقیقت کو تسلیم کروانا چاہتا ہے؛ ایسی حقیقت جس کے مطابق خطے کے اہم فریقوں اور طاقت کے توازن کو نظر انداز کرکے کوئی بھی پائیدار معاہدہ ممکن نہیں۔
ایران کے نقطۂ نظر سے وہ دور گزر چکا ہے جب صرف حکومتوں کے درمیان ایسے معاہدے طے پا جاتے تھے جن کا زمینی حقائق پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ تہران کا ماننا ہے کہ کسی بھی کامیاب معاہدے میں سیاسی، سکیورٹی اور علاقائی پہلوؤں کو بیک وقت شامل ہونا چاہیے۔
اسی لیے لبنان میں جنگ بندی اور حزب اللہ کے خلاف فوجی دباؤ کے خاتمے کو ایران محض وقتی یا حربی مطالبات نہیں سمجھتا، بلکہ انہیں علاقائی سلامتی اور پائیدار استحکام کے اپنے تصور کا بنیادی حصہ قرار دیتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی اور حزب اللہ کی حیثیت کو شامل کرنے پر ایران کا اصرار صرف ایک علاقائی اتحادی کی سیاسی حمایت تک محدود نہیں ہے۔ یہ مؤقف مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی ڈھانچے کے بارے میں تہران کی مخصوص سوچ سے جڑا ہوا ہے، جس کے مطابق مختلف فریقوں کی سلامتی ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور علاقائی بحرانوں کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
ایران کے نزدیک ایسا معاہدہ جو صرف دوطرفہ مسائل پر توجہ دے لیکن خطے میں کشیدگی کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کر دے، طویل المدت استحکام فراہم نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے تہران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ مستقبل کا کوئی بھی معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کا سبب نہ بنے بلکہ پورے خطے میں استحکام کے لیے ایک وسیع تر فریم ورک کی بنیاد بھی فراہم کرے۔
اگرچہ واشنگٹن اور بعض مغربی دارالحکومتوں میں اس نقطۂ نظر کو شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ایران کے مذاکراتی مؤقف اور مستقبل کے معاہدوں کے لیے اس کی شرائط کو سمجھنے کے لیے اس اسٹریٹجک منطق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
تہران کے لیے معاملہ صرف ایک معاہدے کا نہیں، بلکہ ایسے نئے سکیورٹی انتظامات کی تشکیل کا ہے جو خطے میں بار بار جنم لینے والی کشیدگی، تنازعات اور محاذ آرائی کے سلسلے کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
