استقامت اور اتحاد سے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں، رہبر انقلاب

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عیدغدیر اور حضرت امام خمینیؒ کے 37ویں یومِ ارتحال کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے کہا ہے کہ تمام افراد استقامت، روشن بینی، قومی وحدت، باہمی اعتماد اور دشمن کی چال میں آنے سے اجتناب کے ذریعے اس کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔

رہبرِ انقلاب کا پیغام آج صبح حرمِ امام خمینیؒ میں حجت الاسلام محمد جواد حاج علی اکبری نے قرأت کیا۔ پیغام عیدِ غدیر، امام خمینیؒ کی 37ویں برسی اور شہید آیت اللہ امام سید علی خامنہ ای کی قیادت کے آغاز کی سالگرہ کے موقع پر جاری کیا گیا۔

اپنے پیغام میں رہبرِ انقلاب نے عیدِ غدیر کو عید اللہ الاکبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن ولایت و امامت کے عہد کی تجدید اور دین کی تکمیل کا دن ہے۔ انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی سیرت کو تمام مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا اور کہا کہ امام خمینیؒ اور شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی حضرت علیؑ کی پیروی تھا۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ کی برسی ان کی شخصیت، افکار اور انقلابی راستے پر غور و فکر کا اہم موقع ہے۔ امام خمینیؒ کی شخصیت اگرچہ دنیا بھر میں معروف ہے، لیکن ان کے افکار اور اہداف کی گہرائی سے شناخت اب بھی ایک اہم ضرورت ہے، خصوصاً نئی نسل کے لیے جسے براہِ راست ان کی رفاقت کا موقع حاصل نہیں ہوا۔

ہمارے دور کے عظیم روحانی پیشوا، انقلاب اسلامی کے بانی نے ملتِ ایران کو خدا کے لیے قیام کی دعوت دی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے لیے قیام امامؒ کے مکتب کی بنیاد ہے اور ان کی شخصیت کی اہم ترین برکات میں سے ایک یہی ہے کہ انہوں نے اسی اصول کی بنیاد پر معاشرے کی رہنمائی، تربیت اور گہری فکری و روحانی تشکیل کی۔

یہی الٰہی تحریک خداوند متعال کی رحمتوں اور عنایات کے نزول کا سرچشمہ بنتی ہے اور معاشرے کو راہِ حق پر گامزن کرنے کے لیے سنتِ الٰہی کو جاری کرتی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا” (جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، ہم یقیناً انہیں اپنے راستوں کی ہدایت عطا کرتے ہیں)۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملتِ ایران کی سب سے بڑی اجتماعی تحریکیں اور بیداریاں امام خمینیؒ اور عظیم المرتبت شہید رہبر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت اور رہنمائی میں وجود میں آئیں؟ آخر وہ کون سی عظیم طاقت تھی جس نے 5 جون 1963ء کو استکبار اور استعمار کے سحر میں جکڑی ہوئی، غفلت میں ڈوبی قوم کو بیدار کر دیا، جبکہ ملک پر جبر، گھٹن اور مغرب پر مکمل انحصار کا ماحول مسلط تھا؟

کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملتِ ایران کی سب سے بڑی اجتماعی تحریکیں اور بیداریاں امام خمینیؒ اور عظیم المرتبت شہید رہبر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت اور رہنمائی میں وجود میں آئیں؟ آخر وہ کون سی عظیم طاقت تھی جس نے 5 جون 1963ء کو استکبار اور استعمار کے سحر میں جکڑی ہوئی، غفلت میں ڈوبی قوم کو بیدار کر دیا، جبکہ ملک پر جبر، گھٹن اور مغرب پر مکمل انحصار کا ماحول مسلط تھا؟

یہ امام خمینیؒ اور عظیم المرتبت شہید آیت اللہ خامنہ ای تھے جنہوں نے ملتِ ایران کی اس عظیم صلاحیت اور آمادگی کو پہچانا، اسے بیدار کیا اور ہمیشہ اس کی قدر و منزلت کو اجاگر کیا۔ میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ موجودہ دور میں ملتِ ایران اور اس کے کروڑوں عوام، رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے اہلِ حجاز، اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور امام حسینؑ کے زمانے کے اہلِ کوفہ و عراق سے بہتر ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ شہید امام خامنہ ای کا مکتب درحقیقت امام خمینیؒ کے اسی مکتب کا تسلسل ہے جو اسلامِ نابِ محمدی ﷺ پر قائم ہے۔ اس مکتب کی بنیاد قیام للہ ہے اور اس کے تربیت یافتہ افراد حق کے قیام، باطل کے خاتمے اور اس نورانی راستے میں جدوجہد کے لیے صف در صف آمادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی استکباری نظام، جس نے تقریباً اسی سال قبل اسرائیل کے نام سے ایک فوجی اڈہ قائم کیا، مشرقِ فرات میں واقع ایک مضبوط، آزاد اور ترقی یافتہ ایران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اس کی پیشرفت روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرتا ہے۔

انہوں نے ملتِ ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن، مسلح افواج کے دلیر جوانوں کے ہاتھوں شکست کھانے اور عسکری و عوامی میدان میں فیصلہ کن ضربیں سہنے کے بعد، اب ایک گہری اور معنی خیز ذلت کا سامنا کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اپنی مشترکہ جنگی حکمتِ عملی کا مرکز دو امور کو بنایا ہے: عوام کی استقامت کو کمزور کرنا اور ملکی ذمہ داران کے فیصلوں میں غلطی پیدا کرنا۔

ان کے بقول دشمن کے اہم ہتھیار شکوک و شبہات، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلافات کے بیج بونا ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سب لوگ استقامت، بصیرت، اتحاد، باہمی اعتماد اور دشمن کے بیانیے پر یقین کرنے سے گریز کے ذریعے اس کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں حکام کی ذمہ داری کو بھی نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ ایسا ہر اقدام جو عوام میں بداعتمادی یا مایوسی پیدا کرے، درحقیقت دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *