
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک باخبر ذریعے نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق ممکنہ مفاہمتی دستاویز کی تازہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کا حتمی متن ابھی تہران میں مختلف سطحوں پر زیرِ غور ہے اور اس سلسلے میں ابھی تک کسی قسم کا سرکاری جواب نہیں بھیجا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکا کی ماضی کی وعدہ خلافیوں اور تاریخی بداعتمادی کے باعث ایران اس معاملے کا انتہائی محتاط اور سخت گیر انداز میں جائزہ لے رہا ہے۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے کہا کہ ایران سابقہ تجربات کی روشنی میں کسی بھی معاہدے سے حقیقی اور عملی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے، صرف کاغذی یقین دہانیوں پر اکتفا نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا جنگ کے نتائج اور اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہے، جبکہ ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کے مستقبل اور اس پر عملدرآمد کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
ذرائع نے زور دے کر کہا کہ ایران ماضی میں بھی فریق مقابل کی بدعہدی کا تجربہ کرچکا ہے، اسی لیے تہران کی ترجیح ایسے عملی اور قابل تصدیق اقدامات ہیں جن کی واپسی یا خلاف ورزی کی صورت میں مناسب ردِعمل ممکن ہو اور معاہدے کے فوائد واضح طور پر حاصل کیے جاسکیں۔
