مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی اراکین پارلیمنٹ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے رہبر انقلاب کے اس پیغام کو، جو عوامی نمائندوں کے نام جاری کیا گیا تھا، دقیق، مضبوط، جامع اور رہنمائی فراہم کرنے والا قرار دیا ہے اور عوامی امنگوں کے مطابق پارلیمنٹ کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کیا۔
بیان میں رہبر انقلاب کے پیغام کو پارلیمنٹ کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی دانشمندانہ رہنمائی نے ایک بار پھر عوامی ایوان کے لیے واضح راستہ متعین کر دیا ہے۔
ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ ولایت کی نعمت پر فخر کرتے ہیں اور امامت و ولایت کے مبارک ایام میں اپنے عہد کی تجدید کرتے ہوئے اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ عوامی توقعات اور قومی ضروریات کے مطابق ایک مؤثر اور فعال پارلیمنٹ تشکیل دیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے بعد کے مرحلے میں پارلیمنٹ کو امید، عوامی مطالبات کے تعاقب، ملک کی بنیادی ضروریات پر توجہ، قانون سازی اور نگرانی کے عمل میں جدت اور تیزی، اور ایران کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
ارکان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حکومت اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے ملک کی تعمیر و ترقی، عوامی مسائل کے حل، بالخصوص معاشی اور روزمرہ زندگی سے متعلق مشکلات کے خاتمے، پیداوار اور روزگار کے فروغ، سائنس و صنعت کی ترقی، ثقافتی و اخلاقی ارتقا، مالی بدعنوانی کے خلاف جدوجہد، مہنگائی پر قابو پانے اور محروم طبقات کی مدد کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ درست ترجیحات کا تعین، تحقیق اور ماہرین کی مشاورت پر مبنی فیصلے، عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد، قومی مفادات کو گروہی اور علاقائی مفادات پر ترجیح دینا، پارلیمانی سفارت کاری کو فروغ دینا، عالمی طاقتوں کے دباؤ کے مقابلے میں جرات مندانہ مؤقف اختیار کرنا اور قومی اتحاد کا تحفظ، رہبر انقلاب کی اہم ہدایات میں شامل ہیں۔
ارکان پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات اور غیر ضروری تنازعات سے گریز کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دشمن اقتصادی دباؤ اور معاشرتی تقسیم پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم عوامی مسائل، خصوصاً معیشت اور قومی اتحاد پر توجہ کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
