ایران اپنے دفاع کے لیے ہر آپشن استعمال کرے گا، ایرانی وزارت خارجہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 اپریل 2026 کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ تمام محاذوں بشمول لبنان میں روک دی گئی تھی۔

وزارت خارجہ کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک امریکہ متعدد بار اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے، جن میں ایرانی تجارتی جہازرانی کے خلاف مسلسل کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے بھی جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں ہزاروں لبنانی شہری شہید اور زخمی ہوئے، تقریباً بیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ اور شہری املاک شدید متاثر ہوئیں۔

وزارت خارجہ نے زور دے کر کہا کہ کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی درحقیقت تمام محاذوں پر اس معاہدے کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔

بیان کے مطابق اگرچہ جنگ بندی کے ابتدائی دنوں میں امریکہ نے اسرائیل کو لبنان کے خلاف کارروائیاں روکنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کا اعلان کیا تھا، تاہم ایران کا موقف ہے کہ ایران کے خلاف جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف اسرائیلی اقدامات، دونوں کی براہ راست ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بارہا خبردار کر چکا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہیں اور ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے فطری اور قانونی جائز حق دفاع کی بنیاد پر پوری قوت اور تمام دستیاب صلاحیتوں کے ساتھ اپنے مفادات کا دفاع کرے گا، جہاں بھی وہ اسے ضروری سمجھے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *