گوہاٹی: آسام اسمبلی نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل کو منظوری دے دی ہے، جس کے بعد آسام، اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد اس قانون کو منظور کرنے والی تیسری ریاست بن گئی ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد آئین ہند کے رہنما اصولوں (آرٹیکل 44) کے مطابق ملک کے تمام شہریوں کیلئے یکساں قوانین نافذ کرنا ہے۔
اس موقع پر آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ ریاست میں یو سی سی کے نفاذ کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے نفاذ سے متعلق متعلقہ عہدیداروں کو تربیت بھی فراہم کی جاچکی ہے۔ ان کے مطابق یو سی سی کے نفاذ سے سماج میں کئی معاملات میں یکسانیت پیدا ہوگی جبکہ خواتین کے تحفظ، عزت اور مساوات کو یقینی بنانا اس بل کا اہم مقصد ہے۔
یو سی سی کے تحت شادی، طلاق، جائیداد کی وراثت اور وصیت جیسے معاملات میں صنفی مساوات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس قانون کے ذریعہ مذہب سے بالاتر ہوکر خواتین اور مردوں کیلئے یکساں حقوق فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بل میں لیو اِن ریلیشن شپ یعنی بغیر شادی کے ساتھ رہنے والے جوڑوں کیلئے بھی قواعد شامل کئے گئے ہیں۔ ایسے افراد کو اب لازمی طور پر رجسٹریشن کروانا ہوگا، جس کیلئے حکومت کی جانب سے خصوصی محکمہ قائم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ فوج، فضائیہ اور بحریہ میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کیلئے ’’پریولیجڈ وِل‘‘ کی سہولت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ ہنگامی حالات میں آسانی اور تیزی کے ساتھ اپنی وصیت تیار کرسکیں۔
یو سی سی کے تحت تمام مذاہب کے مرد و خواتین کیلئے شادی کی کم از کم عمر یکساں رکھی گئی ہے جبکہ تمام مذاہب میں کثرتِ ازدواج (ایک سے زیادہ شادیوں) پر پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق حلال طریقہ کار سے متعلق پابندی کی دفعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے اس قانون کو بی جے پی کا سیاسی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر واجد علی چودھری نے کہا کہ کم عمری کی شادی، طلاق، نان نفقہ اور کثرتِ ازدواج جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے پہلے ہی کئی قوانین موجود ہیں، اس لئے نئے قانون کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی ذاتی زندگی میں مداخلت جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب قبائلی طبقات کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تو پھر اسے ’’یکساں‘‘ سول کوڈ کیسے کہا جاسکتا ہے۔

