نیٹ یو جی 2026 امتحان تین مئی کو منعقد کیا گیا تھا۔ امتحان کے بعد مختلف ریاستوں اور سوشل میڈیا پر یہ دعوے سامنے آنے لگے کہ سوالات امتحان شروع ہونے سے پہلے کچھ افراد تک پہنچ گئے تھے۔ معاملہ بڑھنے کے بعد 11 مئی کو امتحان منسوخ کر دیا گیا اور اب دوبارہ امتحان 21 جون کو کرایا جائے گا۔
معاملے کی جانچ اس وقت سی بی آئی کر رہی ہے۔ جانچ ایجنسی اب تک راجستھان، ہریانہ اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں سے نو ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ جمعرات 21 مئی کو این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ اور چیئرمین پردیپ کمار جوشی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران این ٹی اے نے دعویٰ کیا کہ مکمل پیپر لیک نہیں ہوا تھا بلکہ صرف کچھ سوال امتحان سے پہلے باہر آئے تھے۔
اسی دعوے کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ اگر سوال پہلے ہی کچھ افراد تک پہنچ جائیں تو کیا اسے امتحان کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہونے والا معاملہ نہیں مانا جانا چاہیے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ پیپر لیک اور سوالات باہر آنے میں عملی فرق کیا ہے۔
پون کھیڑا نے حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ نوجوانوں، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، خواتین کی سلامتی اور دیگر عوامی معاملات پر سنجیدگی سے جواب دیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل آج جواب مانگ رہی ہے اور اس کے سوالوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
