
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل آلبارس نے صمود فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی وزیر برائے داخلی سیکیورٹی ایتمار بن گویر کے غیر انسانی رویے پر ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بن گویر کے اسپین میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے جمعرات کے روز کہا کہ اسپین نے صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی گرفتاری کے معاملے پر اسرائیل کے ناظم الامور کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپین گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ اسرائیلی وزیر جو اس پرتشدد ویڈیو میں نظر آئے، انہیں ہمارے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسپین کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں امریکا کی جانب سے کیوبا کے خلاف دھمکیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف کیوبا کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسپین کیوبا کو انسانی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بھی چند گھنٹے قبل ایتمار بن گویر کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی وہ تصاویر میں بن گویر کو غزہ کے لیے امدادی کارکنوں کی توہین کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
