میدان جنگ میں امید کی کرن بننے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کو خراج پیش کرتے ہیں، جنرل عبداللہی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خاتم الانبیاءؐ مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر جنرل علی عبداللہی نے جنگ رمضان کے دوران طبی عملے کی خدمات اور قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں قرآن کریم کی آیت “اور جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو زندہ کیا” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کے عظیم رہنماؤں، شہداء اور مسلح افواج کے جانبازوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج کو ہمیشہ طبی عملے کے شہداء اور ان کی تاریخی خدمات پر فخر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خون اور بارود کے درمیان اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگیاں بچائیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ رمضان کے دوران اساتذہ، ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف، امدادی کارکنوں، طبی مراکز کے ملازمین اور رضاکاروں نے غیر معمولی مہارت کے ساتھ 34 ہزار سے زائد زخمیوں کی جان بچائی۔

کمانڈر خاتم الانبیاءؐ نے کہا کہ طبی عملے نے ثابت کیا کہ میدان جنگ میں اقتدار اور طاقت صرف گولی اور ہتھیار نہیں ہوتے بلکہ وہ مضبوط ہاتھ بھی ہوتے ہیں جو تاریک ترین لمحوں میں زخمیوں کو امید اور زندگی واپس دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آگ اور خون کے درمیان طبی عملے کی موجودگی اس وحدت کی حقیقی تصویر ہے جس میں علم کو وطن اور قومی اقدار کے دفاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پیغام میں کہا گیا کہ طبی عملے کے یہ مجاہد ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے کیونکہ انہوں نے مشکل ترین حالات میں پیچھے ہٹنے کے بجائے زخمیوں کی مدد کے لیے آگے بڑھنے کو ترجیح دی۔

جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ہر زخمی کی بحال ہوتی سانس اور دھڑکتا دل طبی عملے کی عظیم خدمت، خلوص اور انسانی مشن کی گواہی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *