جسٹس اجول بھوئیاں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چھوٹی بنچ بڑی بنچ کے وضع کردہ قانون کی پابند ہوتی ہے۔ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ پابند نظیر کی پیروی کی جائے اور اگر کوئی شک ہو تو کیس کو بڑی بنچ کے پاس بھیجا جائے۔ چھوٹی بینچ، بڑی بینچ کے فیصلے کو درکنار، کمزور یا نظر انداز نہیں کر سکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ’وتالی‘ فیصلے کا استعمال یو اے پی اے معاملوں میں غیر معینہ مدت کی حراست کو صحیح ٹھہرانے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔ رواں برس جنوری میں سپریم کورٹ کے 2 ججوں کی بینچ نے دہلی فسادات کے ملزمین میران حیدر، گلفشاں فاطمہ، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو مشروط ضمانت دے دی تھی، جبکہ اس معاملے کے مرکزی ملزمین عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔ دونوں ستمبر 2020 سے جیل میں بند ہیں۔
عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دیے جانے سے سپریم کورٹ برہم، عدالت عظمیٰ کو اپنے ہی فیصلے پر اعتراض!
