
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے، تاہم ان حملوں میں بڑے پیمانے پر زمینی کارروائیاں شامل نہیں، بلکہ زیادہ تر فضائی حملوں، انخلا کی وارننگز اور توپخانے کی گولہ باری تک محدود ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے پیچیدہ جغرافیے میں حزب اللہ کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ڈرون حملوں کے ذریعے النبطیہ، الفوقا اور حاریس سمیت متعدد قصبوں کو نشانہ بنایا، جبکہ کفرتبنیت، حاروف، برعشیت اور صفد البطیخ پر توپخانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ بنت جبیل اور مغربی علاقے کے اطراف گھروں کو مسمار کرنے کی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔
فوجی و اسٹریٹجک امور کے ماہر بریگیڈیئر حسن جونی نے جنوبی لبنان پر اسرائیلی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب نے حالیہ ہفتوں میں اپنی جنگی پالیسی تبدیل کر دی ہے۔ اب بفر زون قائم کرنے کے بجائے شدید فضائی دباؤ، منظم تباہی اور جنوبی دیہاتوں کے مکینوں کو بے گھر کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ اسرائیل کو وسیع زمینی کارروائیوں کی کامیابی کی امید کم ہو گئی ہے، اسی لیے وہ دور سے گولہ باری اور فضائی حملوں پر انحصار کر رہا ہے تاکہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ براہ راست جھڑپوں سے بچا جا سکے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں دشوار گزار جغرافیہ اور جنگی تجربہ حزب اللہ کو برتری دیتا ہے۔
جونی کے مطابق اسرائیلی فوج انسانی جانی نقصان کے خوف سے لبنان میں زمینی حملے سے گریز کر رہی ہے، کیونکہ حزب اللہ اب بھی مشکل اور پیچیدہ علاقوں میں اپنی جنگی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے، جن میں دیر سریان، زوطر الشرقیہ اور وادی الراج کے علاقے نمایاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے ڈرونز اسرائیل کے لیے سب سے پریشان کن چیلنج بن چکے ہیں۔ یہ ڈرونز مسلسل اسرائیلی فوج کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث اسرائیلی فوج کو ہر وقت ہائی الرٹ رہنا پڑتا ہے اور وہ زمینی فوج کے بجائے فضائی طاقت پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ الزہرانی کے اطراف گولہ باری کا دائرہ بڑھانا دراصل حزب اللہ اور اس کے حامی ماحول پر سیاسی اور سکیورٹی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مستقبل کے ممکنہ مذاکرات اور انتظامات کے حوالے سے بات چیت بھی تیز ہو رہی ہے۔
