امریکہ کو جنگی حکمت عملی الٹ پڑ گئی، ایران توقعات سے کہیں زیادہ طاقتور نکلا، الجزیرہ کا انکشاف

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزیرہ نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں ایران کے مقابلے میں امریکہ کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں امریکی غلطیوں اور ایران کی کامیابیوں کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما رہے۔

رپورٹ کے مطابق پہلی بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکی حکام نے ایران کے بارے میں بنیادی طور پر غلط اندازہ لگایا۔ ایران ایک قدیم تہذیب ہے جس کی تاریخ پانچ ہزار سال پر محیط ہے، اور اس کے عوام میں گہری ثقافت، قومی مزاحمت اور تاریخی وقار پایا جاتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران نے امریکی دباؤ اور حملوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا، خاص طور پر اس لیے کہ ایرانی عوام کو 1953 کی وہ امریکی مداخلت یاد ہے جس میں ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ایک طویل عرصے تک قائم رہنے والی بادشاہت قائم کی گئی تھی۔

رپورٹ میں دوسری وجہ ایران کی تکنیکی ترقی کو امریکہ کی جانب سے کم تر سمجھنے کو قرار دیا گیا۔ الجزیرہ کے مطابق ایران انجینئرنگ اور ریاضی کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور اس نے جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز پر مشتمل ایک مضبوط دفاعی ڈھانچہ قائم کر لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چار دہائیوں پر محیط پابندیوں کے باوجود ایران کی ٹیکنالوجی میں ترقی ایک غیر معمولی قومی کامیابی ہے۔

تیسری وجہ کے طور پر رپورٹ میں کہا گیا کہ عسکری ٹیکنالوجی کا توازن ایران کے حق میں بدل چکا ہے۔ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی تیاری پر آنے والی لاگت امریکی دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی ڈرون تقریباً 20 ہزار ڈالر میں تیار ہوتے ہیں جبکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کے میزائلوں کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح ایران کے اینٹی شپ میزائل، جن کی لاگت چند لاکھ ڈالر ہے، اربوں ڈالر مالیت کے امریکی جنگی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

الجزیرہ نے مزید کہا کہ خلیج فارس کے گرد ایران کا اینٹی ایکسیس دفاعی نیٹ ورک، اس کا کثیر سطحی فضائی دفاع، ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے دشمن کے نظام کو الجھانے کی صلاحیت، اور آبنائے ہرمز پر اس کا اثر و رسوخ، امریکہ کے لیے فوجی کارروائی کی لاگت کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت بھی خطے کے ممالک کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

رپورٹ کے مطابق چوتھی بڑی وجہ امریکہ کے اندر غیر منطقی سیاسی فیصلے تھے۔ الجزیرہ نے لکھا کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ ٹرمپ کے قریبی حلقے نے بغیر کسی باقاعدہ ادارہ جاتی مشاورت کے کیا۔ امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ جو کینٹ نے 17 مارچ کو استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جنگ ایسے فیصلہ سازی کے نظام کا نتیجہ تھی جس میں مشاورت کا مؤثر طریقہ کار موجود نہیں تھا، اور یہ ایک غیر ضروری جنگ تھی۔

الجزیرہ نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ طور پر جنگ کا اختتام ایسی صورتحال پر ہوگا جو کسی حد تک سابقہ حالات سے ملتی جلتی ہوگی، لیکن تین نئی حقیقتوں کے ساتھ: پہلی یہ کہ ایران عملاً آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لے گا، دوسری یہ کہ ایران کی دفاعی اور جوابی صلاحیت مزید مضبوط ہو جائے گی، اور تیسری یہ کہ خلیج فارس میں امریکہ کی طویل مدتی فوجی موجودگی میں نمایاں کمی آئے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ طویل المدتی تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے اور مسلسل جنگوں میں الجھنے کا خواہاں نہیں۔ اسی لیے اس بات کا امکان کم ہے کہ وہ حال ہی میں ختم ہونے والی جنگ کو دوبارہ بھڑکانا چاہے گا۔

الجزیرہ نے مزید لکھا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ امریکی پسپائی کو ایک بڑی عسکری اور اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران واشنگٹن کے اندازوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور مضبوط ثابت ہوا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *