تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز کے روح پرور اجتماع سے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا ایمان افروز خطاب

تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز کے روح پرور اجتماع سے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا ایمان افروز خطاب

“مدینہ منورہ صرف ایک شہر نہیں، عشقِ رسول ﷺ کی زندہ تفسیر ہے”

حیدرآباد، 8 مئی (پریس ریلیز):

جمعہ کا مبارک دن، رحمتوں اور برکتوں سے لبریز ساعتیں، ذکر و درود سے معطر فضا، اور اللہ کے مہمان بننے کی سعادت حاصل کرنے والے عازمینِ حج کا نورانی اجتماع… ایسے روح پرور ماحول میں دل بے اختیار مدینہ منورہ کی مقدس گلیوں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں ہر سمت رحمتوں کی روشنی بکھری ہوئی ہے اور جہاں کا ذرّہ ذرّہ عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔

اسی روحانی کیفیت کے ساتھ آج بروز جمعہ تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد میں نمازِ جمعہ کے موقع پر خطیب و امام، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے عازمینِ حج سے نہایت ایمان افروز خطاب فرمایا۔ اپنے پُرسوز اور دلنشیں بیان میں انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت، بارگاہِ رسالت ﷺ کے ادب اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی حقیقی روح کو انتہائی مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

مولانا نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا کے عام شہروں کی طرح محض آباد بستیاں نہیں بلکہ یہ وہ مقدس وادیاں ہیں جنہیں ربِ کائنات نے اپنی خصوصی رحمت، برکت اور نور سے سرفراز فرمایا ہے۔ یہاں کی فضا درود و سلام کی خوشبو سے مہکتی ہے، یہاں کی مٹی عقیدت و محبت کا سرمایہ ہے، اور یہاں کے در و دیوار بھی ادبِ رسالت ﷺ کا درس دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ منورہ کی عظمت صرف اس کے تاریخی مقامات یا خوبصورت گلیوں میں نہیں بلکہ اس عظیم نسبت میں ہے جو اسے تاجدارِ کائنات ﷺ سے حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ کی زیارت صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی بصیرت سے کی جاتی ہے۔ جس دل میں محبتِ رسول ﷺ کی شمع روشن ہو، وہی اس شہر کے نور، اس کی رحمت اور اس کی روحانی کیفیت کو محسوس کرسکتا ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے “ریاض الجنۃ” کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنے حجرۂ مبارک اور منبر کے درمیان کی جگہ کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ قرار دیا، لیکن عاشقانِ رسول ﷺ جب مدینہ منورہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو انہیں صرف ایک گوشہ نہیں بلکہ پورا مدینہ ہی جنت کی خوشبو سے مہکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں قدم قدم پر رحمتِ عالم ﷺ کی شفقتوں، عنایتوں اور برکتوں کے نقوش جلوہ گر ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے مسجدِ قبا، مسجدِ غمامہ، مسجدِ اجابہ، میدانِ اُحد اور جنت البقیع جیسے مقدس مقامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مدینہ منورہ کی ہر گلی عشقِ رسول ﷺ کی ایک روشن دلیل ہے۔ مسجدِ قبا کی فضیلت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں دو رکعت نماز ادا کرنے پر عمرے کا ثواب عطا کیا جاتا ہے، جبکہ مسجدِ نبوی ﷺ میں ادا کی جانے والی ایک نماز کی عظمت و برکت بے مثال ہے۔

انہوں نے عازمینِ حج کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ روضۂ رسول ﷺ کا ادب ایمان کا حصہ ہے۔ وہاں آوازیں دھیمی ہونی چاہئیں، نگاہیں جھکی رہنی چاہئیں اور ہر قدم انتہائی ادب و احترام کے ساتھ اٹھنا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ بے احتیاطی سے شور و ہنگامہ کرتے یا جوتے بے ترتیبی سے پھینکتے ہیں، حالانکہ یہ وہ بارگاہِ اقدس ہے جہاں اہلِ عشق نے ہمیشہ ادب کو عبادت سمجھا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے امام مالکؒ کا معروف واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام مالکؒ مدینہ منورہ میں کبھی سواری پر نہ بیٹھتے تھے اور فرماتے تھے:

“مجھے اس شہر کی زمین پر سواری کرتے ہوئے حیا محسوس ہوتی ہے جہاں محبوبِ خدا ﷺ آرام فرما ہیں۔”

مولانا نے نہایت وجد آفریں انداز میں فرمایا کہ حضور ﷺ کی آمد سے پہلے یہ شہر یثرب کہلاتا تھا، لیکن جب سرکارِ دو عالم ﷺ نے یہاں سکونت اختیار فرمائی تو یہی یثرب “مدینۃ الرسول” بن گیا۔ پھر اس کی مٹی بھی مقدس ہوگئی، اس کی فضا بھی نورانی ہوگئی اور اس کے ذرّے ذرّے کو وہ عظمت نصیب ہوئی کہ اہلِ ایمان اس کی خاک کو سرمۂ چشم بنانے میں فخر محسوس کرنے لگے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہی شہر ہے جہاں رحمتِ عالم ﷺ آرام فرما ہیں، جہاں صحابۂ کرامؓ نے عشق و وفا کی لازوال داستانیں رقم کیں اور جہاں آج بھی عاشقانِ رسول ﷺ سکونِ قلب اور روحانی راحت پاتے ہیں۔

اس موقع پر مولانا نے نہایت مؤثر انداز میں یہ شعر پڑھا:

خورشید بھی گیا تو اُدھر سر کے بل گیا

اور فرمایا کہ مدینہ منورہ کی اصل عظمت اس نسبت میں پوشیدہ ہے کہ یہ اس رسول ﷺ کا شہر ہے جن پر خود ربِ کائنات اور اس کے فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں، جن کی اطاعت کے بغیر خدا کی اطاعت مکمل نہیں، اور جو صرف نبی نہیں بلکہ خاتم النبیین اور رحمت للعالمین ہیں۔

انہوں نے ایک اور ایمان افروز شعر پیش کرتے ہوئے کہا:

رُخِ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا کوئی آئینہ

نہ ہماری بزمِ خیال میں ہے اور نہ دکانِ آئینہ ساز میں

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خطاب میں غزوۂ حنین کے بعد انصارِ مدینہ کے ساتھ پیش آنے والے تاریخی واقعے کا بھی ذکر کیا اور حضور اکرم ﷺ کے اس درد انگیز ارشاد کو بیان کیا:

“کیا تم اس پر راضی نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟”

انہوں نے فرمایا کہ یہی وہ لمحہ تھا جب انصارِ مدینہ کے نصیب جگمگا اٹھے، اور وہ اس دولت سے مالا مال ہوگئے جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر نعمت ہیچ ہے۔

مولانا نے مزید فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ اپنی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں جس طرح امت کے لیے مرکزِ محبت و عقیدت تھے، وصالِ ظاہری کے بعد بھی آپ ﷺ کا روضۂ اقدس دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے قبلۂ عشق و ادب ہے۔ اہلِ ایمان کے نزدیک یہ عقیدہ ایمان کا حصہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اپنی قبورِ مبارکہ میں حیات رکھتے ہیں، اور اسی نسبت کی بنا پر روضۂ رسول ﷺ کی سرزمین پوری دنیا کی سب سے مقدس زمین ہے۔

آخر میں مولانا نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام عازمینِ حج کو حجِ مبرور، بارگاہِ رسالت ﷺ کی باادب حاضری، عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی سچی دولت، اور مدینہ منورہ کی دائمی محبت نصیب فرمائے۔

آخر میں یہ ایمان افروز شعر پڑھا گیا:

حبِ احمدؐ ازل ہی سے سینے میں ہے

میں یہاں ہوں، میرا دل مدینے میں ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *