چیف منسٹر بننے سے ایک قدم دور وجئے، حلف برداری عین وقت پر رک گئی -ایک ایم ایل اے کی کمی نے تمل ناڈو کی سیاست میں بھونچال مچا دیا

تمل ناڈو کی سیاست میں سنسنی خیز موڑ آگیا ہے اور سیاسی بے چینی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اداکار سے سیاستداں بننے والے وجئے کی کل بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کی خبروں پر گورنر ہاؤس نے بریک لگا دی ہے۔

 

لوک بھون (گورنر دفتر) کے ذرائع کے مطابق تکنیکی وجوہات اور حمایت ناموں کی وصولی میں خامیوں کے باعث کل حلف برداری تقریب منعقد نہیں ہوگی۔ اس اعلان کے بعد ریاست کی سیاسی صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی ہے۔

 

تمل ناڈو اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 117 ارکان کی حمایت درکار ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں وجئے کی طاقت 116 ارکان تک محدود بتائی جا رہی ہے۔ ٹی وی کے حکومت کے حق میں صرف کانگریس، سی پی آئی اور سی پی ایم کی حمایت کے خطوط گورنر کو موصول ہوئے ہیں، جبکہ اہم اتحادی جماعتوں وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کی جانب سے تاحال خطوط نہیں پہنچے۔

 

گورنر نے واضح کیا ہے کہ جب تک 117 ارکان کی واضح اکثریت کے ثبوت پیش نہیں کیے جاتے، حلف برداری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

وجئے کی جماعت اب ایک رکن کی کمی پوری کرنے کے لیے سرگرم کوششیں کر رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ حمایت کا اعلان کرنے والی جماعتوں نے اب تک خطوط کیوں جمع نہیں کروائے اور آیا اس کے پیچھے کوئی سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے۔

 

لوک بھون ذرائع نے اپنے بیان میں کہا کہ “تکنیکی وجوہات کے باعث حمایت کے خطوط کی وصولی میں تاخیر ہوئی ہے، اس لیے کل حلف برداری نہیں ہوگی۔ نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔”

 

دوسری جانب اپنے پسندیدہ اداکار کو چیف منسٹر بنتا دیکھنے کے لیے تیار وجئے کے حامیوں میں مایوسی پھیل گئی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی ان پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا وجئے کو اکثریت کے لیے درکار آخری حمایت مل پائے گی یا تمل ناڈو ایک بار پھر سیاسی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *