بعد ازاں سہراب الدین شیخ اور کوثر بی کو گجرات میں ایک فارم ہاؤس میں غیر قانونی طور سے رکھا گیا تھا۔ وہیں کچھ عرصہ بعد تلسی رام پرجاپتی کی گرفتاری راجستھان کے بھیلواڑہ میں دکھائی گئی تھی۔ اس معاملے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ انکاؤنٹر سہراب الدین کے قریبی ساتھی پرجاپتی کی مدد سے ہی انجام دیا گیا تھا۔ پرجاپتی سے کہا گیا تھا کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے سہراب الدین کو گرفتار کرنا ہوگا اور بعد میں اسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔ سی بی آئی کا دعویٰ تھا کہ سہراب الدین کو فرضی انکاؤنٹر میں نومبر 2005 میں احمد آباد میں مارا گیا تھا۔ وہیں ملزم پولیس اہلکاروں کا دعویٰ تھا کہ سہراب الدین کا دہشت گرد گروپوں کے ساتھ رابطہ تھا اور وہ ایک مشہور لیڈر کا قتل کرنے کے ارادے سے احمد آباد پہنچا تھا۔ اس کے بعد نومبر میں ہی کوثر بی کو مارا گیا تھا اور پھر تقریباً ایک سال بعد تلسی رام پرجاپتی کو گجرات میں ہی انکاؤنٹر میں ماردیا گیا تھا۔
