مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں کہا کہ چین خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مکمل جنگ بندی ناگزیر ضرورت ہے اور خطہ اس وقت ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں فریقین کے درمیان براہ راست رابطہ ضروری ہے۔
وانگ یی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیاں اور کشیدگی بڑھانا غیر قانونی اقدام ہے۔
ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے چین کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کر کے ایک واضح اور مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے چین کو ایران کا قریبی دوست قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات موجودہ حالات میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔
عباس عراقچی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ ایک واضح جارحیت ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے قانونی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا اور صرف اسی معاہدے کو قبول کرے گا جو منصفانہ اور جامع ہو۔
