انتخابی نتائج کے بعد مغربی بنگال کے آسنسول میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، بارابانی اور سلان پور علاقوں میں ترنمول کے دفاتر میں توڑ پھوڑ اور آگ لگا دی گئی۔


i
انتخابی نتائج کے بعد مغربی بنگال میں تناؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ آسنسول کے بارابانی علاقے میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے دو پارٹی دفاتر میں توڑ پھوڑ اور آگ لگا دی گئی ہے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق متاثرہ پارٹی کا ایک دفتر آسنسول سٹی بس اسٹینڈ کے قریب ہے جبکہ دوسرا گودھولی موڑ کے قریب ہے۔ الزام ہے کہ شرپسندوں نے آگ لگانے سے پہلے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی جس سے کافی نقصان ہوا۔ ان واقعات سے علاقے میں تناؤ کا ماحول ہے۔ ٹی ایم سی لیڈروں نے الزام لگایا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ہاتھ ہے۔
اطلاعات کے مطابق سلان پور تھانہ علاقے کے بائیں کنارے کے علاقے میں کچھ نامعلوم افراد نے ٹی ایم سی کے دفتر پر حملہ کیا۔ دفتر میں پہلے توڑ پھوڑ کی گئی اور پھر آگ لگا دی گئی جس سے کافی نقصان ہوا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ سلان پور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ مزید گڑبڑ کو روکنے کے لیے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
بولپور میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے کارکنوں کے درمیان ’جے شری رام‘ بمقابلہ ’جے بنگلہ‘ کے نعرے لگانے پر جھڑپ ہوئی۔ یہ واقعہ بولپور میں گنتی مرکز کے سامنے پیش آیا جہاں پولیس کی موجودگی میں کرسیاں توڑ دی گئیں۔
نیوز پورٹل ’آج تک‘ کے مطابق نانور کے بی جے پی کارکن ترنمول کانگریس کے کیمپ کے پاس سے گزر رہے تھے جب ترنمول کارکنوں نے ’’جئے بنگلہ‘‘ کا نعرہ لگانا شروع کردیا۔ جواب میں بی جے پی کارکنوں نے ’’جئے شری رام‘‘ کے نعرے لگائے۔ دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ تیزی سے بڑھتا گیا، اور حالات خراب ہوتے گئے۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے دونوں فریقوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ مرکزی فورسز کی فوری کارروائی سے حالات قابو میں آگئے۔
دوسری جانب جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مغربی بنگال میں کمل کھلا ہے۔ انہوں نے عوام سے اظہار تشکر کیا اور انہیں یقین دلایا کہ نئی حکومت ریاست کے لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے اور سماج کے تمام طبقات کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی جے پی کی کامیابی اس کی منصوبہ بند حکمت عملی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ پارٹی نے غیر قانونی امیگریشن، بارڈر سیکیورٹی، سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) اور یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) جیسے مسائل کو سختی سے اٹھایا۔ مزید برآں، مخصوص علاقوں میں ووٹروں کو راغب کرنے کی اس کی حکمت عملی نے بھی اسے فائدہ پہنچایا۔ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے مسلسل جارحانہ موقف اپنایا اور ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ اس سے ووٹروں میں تبدیلی کی خواہش کو تقویت ملی، جس کا نتیجہ نتائج میں صاف نظر آیا۔
تاہم جیت کے بعد بی جے پی کا سب سے بڑا چیلنج گورننس ہے۔ اسے ایسی ریاست میں کام کرنا پڑے گا جہاں سیاسی پولرائزیشن گہرا ہے اور ترنمول کانگریس کی اب بھی مضبوط بنیاد ہے۔ توازن برقرار رکھنا اہم ہوگا، خاص طور پر شہریت اور امیگریشن جیسے حساس مسائل پر۔ مزید برآں تیز رفتار ترقی، امن و امان کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور انتظامی اصلاحات کے وعدوں پر عمل درآمد بھی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

