’مسلموں کے ووٹ ترنمول کو ملے، میں نندی گرام کے ہندوؤں کے لیے کام کروں گا‘، سوویندو ادھیکاری کا متنازعہ بیان

مغربی بنگال میں تاریخی فتح کے بعد بی جے پی لیڈران میں جشن کا ماحول ہے۔ بھوانی پور سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست دینے والے سوویندو ادھیکاری نے اپنی فتح کے لیے سی پی ایم ووٹرس کا شکریہ ادا کیا۔

<div class="paragraphs"><p>امت شاہ کے ساتھ سوویندو ادھیکاری کی فائل تصویر</p></div><div class="paragraphs"><p>امت شاہ کے ساتھ سوویندو ادھیکاری کی فائل تصویر</p></div>

i

user

google_preferred_badge

مغربی بنگال میں بی جے پی نے تاریخی فتح حاصل کی ہے، جس کے بعد بنگال سے دہلی تک پارٹی لیڈران و کارکنان جشن میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کچھ سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی 5 مئی کی علی الصبح تک جاری رہی اور اس درمیان کچھ مقامات سے تشدد کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ جشن اور تشدد کے درمیان بی جے پی لیڈران کے کچھ بیانات ریاست کی فضا میں زہر گھولنے کا کام کر رہے ہیں۔ بھوانی پور سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست دینے والے سوویندو ادھیکاری نے ایک انتہائی متنازعہ بیان دیتے ہوئے ’ہندوتوا کی سیاست‘ کو پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بھوانی پور اور نندی گرام سیٹ سے فاتح بی جے پی امیدوار سوویندو ادھیکاری نے نندی گرام میں ملی فتح کے لیے ہندو ووٹرس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے مسلم ووٹرس کے بارے میں کچھ ایسا کہہ دیا، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’نندی گرام کے ہندو ووٹرس نے مجھے پھر سے فتحیاب کیا ہے۔ وہاں مسلموں کے سارے ووٹ ترنمول کانگریس کو ملے۔ میں نندی گرام کے ہندوؤں کے لیے کام کروں گا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ہم وہ کام کریں گے جو وزیر داخلہ امت شاہ نے انتخابی منشور میں اعلان کیا تھا، اور وزیر اعظم مودی نے بار بار یقین دلایا ہے۔‘‘

مغربی بنگال سے ترنمول کانگریس کی وداعی کا ذکر کرتے ہوئے سوویندو ادھیکاری نے کہا کہ ’’اب ترنمول کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 24 گھنٹے کے اندر یہ پارٹی تباہ ہو جائے گی، اس کا صفایا ہو جائے گا۔ اس بدعنوان، اقربا پرور پارٹی کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔‘‘ بھوانی پور سے ممتا بنرجی کو شکست دینے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’انھیں شکست دینا بہت ضروری تھا۔ یہ ممتا بنرجی کی سیاست سے وداعی ہے۔ اس بار بھی وہ 15 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہاریں۔ مسلموں نے کھل کر انھیں ووٹ دیا۔ وارڈ نمبر 77 میں جتنے بھی مسلمان ووٹ ڈالنے نکلے، انھوں نے ممتا کو ووٹ دیا۔ ہندوؤں، سکھوں، جینوں اور بودھوں نے مجھے آشیرواد دیا اور مجھے فتحیاب کیا۔ یہ جیت ہندوتوا کی جیت ہے۔‘‘

سوویندو ادھیکاری نے بھوانی پور میں اپنی جیت کا سہرا خاص طور سے سی پی ایم حامیوں کو دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سی پی ایم کے حامیوں نے مجھے ووٹ دیا ہے۔ بھوانی پور میں سی پی ایم کے پاس 13 ہزار ووٹ تھے، اور ان میں سے کم از کم 10 ہزار ووٹ مجھے ملے۔ میں وہاں کے سی پی ایم ووٹرس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’سبھی بنگالی ہندوؤں نے کھل کر مجھے ووٹ دیا۔ ان کے ساتھ ساتھ گجراتی، جین، مارواڑی، پوروانچلی اور سکھ طبقہ نے بھی کھل کر مجھے ووٹ دیا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال کی 294 میں سے 293 سیٹوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، جس میں 206 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر بی جے پی نے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ برسراقتدار ترنمول کانگریس کے حصے میں محض 81 سیٹیں آئی ہیں۔ ریاست میں حکومت سازی کے لیے 148 سیٹوں کی ہی ضرورت تھی، جو بی جے پی نے بہ آسانی حاصل کر لی۔ اس انتخاب میں کانگریس کے حصے میں محض 2 سیٹیں آئی ہیں، لیکن پارٹی کو 2 سیٹوں کا فائدہ ہی ہوا ہے کیونکہ گزشتہ بار اسے ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *