امریکہ کے پاس دو ہی راستے، مذاکرات کرے یا کھلی جنگ کرے: ایرانی نائب وزیر خارجہ

تہران نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ امریکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ کرے، بحری ناکہ بندی ختم کرے، اپنی افواج کو واپس بلائے اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئی انتظامی و حکومتی ساخت قائم کرے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیےڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے 9 نکاتی فریم ورک کے جواب میں ایران نے ایک نیا اور زیادہ جامع 14 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعہ امریکہ تک پہنچایا گیا، جو خطے میں سفارتی رابطوں کی ایک اہم کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے اپنی تجاویز میں واضح کیا ہے کہ امریکہ فوری طور پر لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ کرے، بحری ناکہ بندی ختم کرے، اپنی افواج کو واپس بلائے اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئی انتظامی و حکومتی ساخت قائم کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے اپنے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، ضبط شدہ اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ایران نے واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ دو ماہ کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسائل کے حل کے لیے 30 دن کی محدود مدت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح انداز میں کہا کہ اب امریکہ کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرے یا پھر کھلی جنگ کی طرف بڑھے۔ ان کے مطابق ایران دونوں صورتوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا آئی آر آئی بی کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تہران میں سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے اس نئے منصوبے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم انہوں نے شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن داخلی سطح پر قیادت کے تعین میں مشکلات کا شکار ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی اس منصوبے کا جائزہ لیں گے، تاہم ماضی کے رویوں کو دیکھتے ہوئے اس کے قابل قبول ہونے پر انہیں شبہ ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *