
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روس میں تعیینات ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں تاکید کی کہ ایرانی عوام نے اس جنگ میں شجاعت اور حوصلے کی مثال قائم کی۔
جلالی نے کہا کہ صدر پوٹن نے متعدد ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سبھی ایرانی عوام کی بہادری اور عزم کی تعریف کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی صرف حکومت ایران کے ساتھ نہیں بلکہ ایران کی عظمت، مزاحمت اور تمدنی ترقی کے خلاف ہے۔
ایرانی سفیر نے بتایا کہ ایران نے 47 سال کی پابندیوں کے باوجود ترقی کی ہے اور اب ملک دفاعی صنعت میں اتنی مضبوط پوزیشن پر ہے کہ مغربی ممالک اس کی میزائل قوت اور ذخائر پر حیران ہیں۔ ایرانی عوام، فوج اور حکام کی شجاعت نے سب کو حیران کر دیا اور انہیں ایرانی قوم کی درست شناخت پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آوروں کو توقع تھی کہ داخلی اختلافات کی وجہ سے ایرانی عوام کمزور ہو جائیں گے، لیکن ایرانی عوام نے اپنی وحدت اور اتحاد کو برقرار رکھا اور میدان میں دشمن کے مقابلے میں مضبوط کھڑے ہیں۔
جلالی نے بتایا کہ روسی تحقیقی مراکز نے نئے انداز میں ایران کی فوج، امریکہ اور اسرائیل کی فوج کی طاقت کا تجزیہ کیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا کہ ایران نے بغیر جوہری ہتھیاروں اور پابندیوں کے باوجود 40 دن تک دنیا کی طاقتور فوجوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایرانی اہلکار اور سفارتکار بھی غیرمعمولی شجاعت کے حامل ہیں، جنہوں نے مشکلات کے باوجود اپنے ملک کے ساتھ وفاداری کا بہترین مظاہرہ کیا۔
