یو اے ای کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یو اے ای کے شہریوں کو ایران، عراق اور لبنان کا سفر نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔


i
مغربی ایشیا میں جاری جنگ فی الحال رکی ہوئی ہے، لیکن تلخ بیانات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے اور دونوں ممالک کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت جاری رہنے کے باوجود حالات کشیدہ ہیں۔ دونوں جانب سے دیے جانے والے بیانات امن کی کوششوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں۔ ان تمام خدشات کے درمیان متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک حالیہ قدم نے عالمی سطح پر ہلچل میں اضافہ کر دیا ہے۔ یو اے ای نے اپنے شہریوں کے ایران، عراق و لبنان کے سفر پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ پوسٹ میں سفری پابندی سے متعلق فیصلے کی اطلاع دی ہے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر شہریوں کے ایران، عراق و لبنان کے سفر پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی ان ممالک میں پہلے سے موجود شہریوں کے لیے بھی ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جو بھی افراد ایران، عراق اور لبنان میں موجود ہیں، وہ فوری طور پر وطن واپس لوٹ آئیں۔ اس سے قبل یو اے ای نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا تھا۔ اوپیک خام تیل کی پیداوار اور برآمد کرنے والے ممالک کی ایک اہم تنظیم ہے۔ اوپیک اور اوپیک پلس سے یو اے ای کے الگ ہونے کو ایران کے لیے ایک دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اب جبکہ اس نے اپنے شہریوں کے ایران، عراق اور لبنان جانے پر پابندی لگا دی ہے، تو اس بات پر بحث تیز ہو گئی ہے کہ کیا یو اے ای مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہو سکتا ہے؟
قابل ذکر ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح لفظوں میں کہہ رکھا ہے کہ ایران اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو کسی بھی صورت میں ترک نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایران کی سائنسی، تکنیکی اور فوجی صلاحیت کو قومی شناخت اور خود مختاری کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
