
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ایک نیا مہلک ہتھیار موجود ہے، جسے استعمال کیا جائے تو امریکہ کو “دل کا دورہ” پڑ سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد اس ہتھیار کی نوعیت پر مختلف سطحوں پر تجزیے شروع ہو گئے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کے پیش نظر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایران کسی زیرِ آب سپر ہتھیار کو متعارف کروا سکتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا ہتھیار تیار کیا ہے جو دشمن ممالک کے جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران ممکنہ طور پر “ہوٹ سپر ٹارپیڈو” کا ذکر کر رہا ہے، جس کے بارے میں ایرانی بحریہ کے کمانڈر شہرام ایرانی نے بھی اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی وقت نئے ہتھیار کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاید دشمن کو واقعی دل کا دورہ نہ پڑے۔
