آبنائے ہرمز میں بدامنی ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہے، ایرانی صدر کا جاپانی وزیر اعظم سے گفتگو

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور جاپان کی وزیراعظم محترمہ تاکے ایچی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں علاقائی، عالمی اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر پزشکیان نے گفتگو کے دوران حالیہ چالیس روزہ مسلط کردہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کے خلاف جنگ میں رہبر انقلاب، اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ عوامی تنصیبات، اسکولوں، اسپتالوں اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں موجود پرامن جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے، جو جنگی جرائم اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کے اشتعال انگیز بیانات اور ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے، ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں، اور ان اقدامات سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت، عوام اور مسلح افواج اپنے جائز اور قانونی حقوق کے دفاع کے لیے پختہ عزم رکھتے ہیں، تاہم ایران منصفانہ حل کے لیے سفارتی عمل جاری رکھنے کو بھی تیار ہے، بشرطیکہ امریکی فریق اپنی زیادتیوں اور اشتعال انگیز اقدامات کو بند کرے۔

صدر پزشکیان نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں پیدا شدہ بدامنی کو امریکا اور اسرائیل کی جارحیت، ایرانی بندرگاہوں کے مسلسل محاصرے اور ایرانی تجارتی جہازوں پر حملوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ امریکا کی سمندری ڈاکا زنی اور بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کی واضح اور سخت مذمت کریں۔

جاپان کی وزیراعظم تاکے ایچی نے اس موقع پر کہا کہ ٹوکیو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دوستانہ اور مستحکم تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے ایران کے کردار کو نمایاں قرار دیا اور کہا کہ مسلسل مذاکرات اور رابطے کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

جاپانی وزیراعظم نے آبنائے ہرمز سے ایک جاپانی جہاز کو گزرنے کی اجازت دینے پر شکریہ ادا کیا اور دیگر جاپانی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پرامن حل کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اختلافات کے انتظام اور تناؤ میں کمی کے لیے سفارت کاری ہی بنیادی راستہ ہے۔

جاپانی وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے اور بالآخر کسی حتمی معاہدے تک پہنچیں گے۔

دونوں رہنماؤں نے اس ٹیلیفونک گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور تعاون کے فروغ کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *