
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے چیف جسٹس حجت الاسلام محسنی اژه ای نے کہا ہے کہ دشمن کے آلۂ کار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی، مقدمات اور سزاؤں کا عمل پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور عدلیہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی یا چشم پوشی نہیں کرے گی۔
تفصیلات کے مطابق حجت الاسلام اژه ای نے عدالتی حکام اور صوبائی چیف جسٹس صاحبان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کی جنگ اور اس کے بعد کے حالات میں سب سے مضبوط اور بنیادی کردار ایران کے باخبر اور دین و قیادت سے وابستہ عوام نے ادا کیا، جنہوں نے اتحاد، اخلاص اور وفاداری کے ذریعے ایک عظیم مثال قائم کی اور کامیابی کو ممکن بنایا۔
چیف جسٹس نے عوامی مطالبات کی تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان باشعور اور بہادر عوام کے جائز مطالبات پورے کریں، جن میں ایک اہم مطالبہ دشمن کے کارندوں کی فوری، درست اور منصفانہ گرفت، مقدمہ اور سزا ہے، اور یہ عمل پوری طاقت سے جاری ہے۔
انہوں نے دشمن کی سیاسی اور ابلاغی مشینری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دشمن کے ترجمان یہ کہتے ہیں کہ فلاں مجرم کو سزا یا پھانسی نہیں ہونی چاہیے۔ انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایران کے عدالتی فیصلوں میں مداخلت کریں۔
حجت الاسلام اژه ای نے واضح کیا کہ جو بے گناہوں کے قتل میں ملوث ہو، اس کے خلاف قانونی سزا کے نفاذ میں کوئی کوتاہی نہیں کی جائے گی اور مغربی طاقتوں یا ان کے پروپیگنڈا اداروں کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی۔
چیف جسٹس نے حکومت کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عوام کی روزی روٹی، بازار کے نظم و ضبط اور ملکی پیداوار کو مضبوط بنانے کے لیے عدلیہ کو حکومت کی مدد کرنی چاہیے۔
اژه ای نے بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے خلاف جنگ عدلیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور جنگی حالات کے باوجود اس اہم معاملے کو نظرانداز نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی میں تیزی اور باریک بینی کے ساتھ کام جاری ہے اور اس حوالے سے عوام کو ضروری معلومات بھی فراہم کی جائیں گی۔
