مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کی حمایت کے الزام میں درجنوں شہریوں کو شہریت سے محروم کرنا غیرانسانی اقدام اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بحرین کی حکومت کی جانب سے درجنوں شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے انسانی حقوق کی کھلی پامالی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحرینی حکام نے بے بنیاد الزامات کے تحت اپنے متعدد شہریوں کی شہریت منسوخ کی، جن پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایران کی جوابی کارروائیوں کی حمایت کی یا امریکی و اسرائیلی جارحیت کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
ایرانی ترجمان نے آل خلیفہ حکومت کے اس اقدام کو بحرینی عوام کے خلاف غیرانسانی سزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی حکام اپنے شہریوں کے ساتھ امتیازی اور جابرانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
بقائی نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت نفسیاتی جنگ کے ذریعے بحرینی اور علاقائی عوامی رائے کو اس حقیقت سے منحرف نہیں کرسکتی کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت میں براہ راست شریک اور معاون رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق 27 اپریل کو بحرین کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں 69 افراد اور ان کے خاندانوں کی شہریت منسوخ کر دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ان افراد نے ایران کی جانب سے مغربی ایشیا میں امریکی اور اسرائیلی فوجی اہداف پر کیے گئے جوابی حملوں کی حمایت کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر ایسے بیانات جاری کیے جن میں مزاحمتی تنظیموں کی تعریف اور ہمدردی شامل تھی۔
بحرینی حکام نے دعوی کیا تھا کہ ان افراد کی سرگرمیوں سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچا، بے چینی پھیلی اور عوامی نظم متاثر ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ میں بحرین کی ایک اپوزیشن جماعت نے الزام لگایا تھا کہ آل خلیفہ حکومت نے ایک نوجوان کو ایران کے خلاف اعترافی بیان لینے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
اپوزیشن جماعت کے مطابق سید محمد الموسوی کو جزیرہ المحرق میں ایک سیکیورٹی ناکے پر دیگر نوجوانوں کے ساتھ روکا گیا اور بغیر کسی واضح وجہ کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اہل خانہ کو کئی دن تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی، بعد ازاں ان کی لاش تشدد کے نشانات کے ساتھ واپس کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق بحرین میں شیعہ مسلمانوں اور جمہوریت پسند کارکنوں کے خلاف دباؤ اور سخت اقدامات طویل عرصے سے جاری ہیں۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد آل خلیفہ حکومت نے اپنی کریک ڈاؤن پالیسی مزید تیز کر دی ہے۔
