
شفیق احمد اطہر کی خصوصی رپورٹ
کریم نگر۔ ریاست تلنگانہ ضلع کریم نگر سے ایک ایسا دل دہلانے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس سے ایک طرف توہم پرستی نے انسانیت کا گلا گھونٹ دیا تو دوسری طرف ایک بے سہارا خاندان اپنوں کو کھونے کے بعد چھت سے بھی محروم ہوگیا۔
تفصیلات کے بموجب سریکانت نامی شخص جو آٹو ڈرائیور تھا۔کریمنگر کے ایک کراے کے گھرمیں مقیم تھا۔معاشی تنگدستی اور بچوں کی تعلیمی اخراجات جیسے مسائل سے پریشان سریکانت نے حال ہی میں خودکشی کرلی۔
شوہر کی موت نے بیوی اور بچوں کو پہلے ہی صدمے میں مبتلا کردیاتھا لیکن مکان مالک کے سفاکانہ رویے نے ان کی زندگی کو جہنم بنادیا۔خاندان کی سربراہ کی موت کے بعدمالک مکان نے ہمدردی کے بجاےتوہم پرستی کا سہارالیا۔انھوں نے خاندان پر یہ شرط رکھ دی کہ 12 دن کے پداکرما(آخری رسومات کےمخصوص ایام)مکمل ہونے تک وہ گھرمیں داخل نہیں ہوسکتے۔
اس جاہلانہ شرط کی وجہ سے بیوہ اور معصوم بچوں کو دربدر لیکر گھومنا پڑا۔بالآخر انھوں نےتھک ہار کر شمشان گھاٹ میں پناہ لی۔پچھلے ایک ہفتہ سے یہ خاندان شمشان گھاٹ میں ہی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ایک طرف جہاں نعشیں جلای جارہی ہوہی دوسری طرف یہ خاندان اسی خوف و ہراس میں زندگی گزار رہاہے۔
سر چھپانے جگہ نہ ہونے کے باعث یہ خاندان سڑک سے گزرنے والوں سے بھیک مانگ رہے ہیں اس واقعہ نے سماج کے پڑھے لکھے طبقے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ہلاکر رکھ دیاہے۔یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آج کے دور میں بھی توہم پرستی کس طرح غریب اور بے سہارا لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنارہی ہے۔
مقامی لوگوں نےارباب مجاز سے شدید مطالبہ کیاکہ وہ فوری اس خاندان کی مدد کرےاور اسطرح کے ظالم توہم پرستی مالک مکان کے خلاف سخت کاروائی کرے جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔یہ واقعہ فلاحی، رفاہی،خدمات انجام دینے والے آزاد،رضاکارانہ مقامی تنظیموں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔
