’آبنائے ہرمز‘ میں پھنسے 40 جہازوں کو متبادل سمندری راستے سے نکالنے کی تیاری میں ہندوستان!

’ٹائمس آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں میں سے 18 میں انرجی پروڈکٹس، 16 میں کھاد اور بقیہ نصف درجن میں دوسرے سامان لدے ہوئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)</p></div><div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)</p></div>

i

user

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے پیش نظر آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے تجارتی آمد و رفت کے لیے کھلنے کی کوئی امید نظر ںہیں آ رہی ہے۔ ایسے میں وزارت برائے جہاز رانی نے وزارت خارجہ کے ساتھ ہندوستان آنے والے تقریباً 40 ’ترجیحی جہازوں‘ کی ایک فہرست شیئر کی ہے اور مشورہ دیا ہے کہ انہیں عمان کے سمندری راستے سے باہر نکالا جائے۔

واضح رہے کہ عمان کا سمندری علاقہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں ہے، جبکہ ایران کا سمندری علاقہ شمال میں ہے۔ ’ٹائمس آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق ان جہازوں میں سے 18 میں انرجی پروڈکٹس، 16 میں کھاد اور بقیہ نصف درجن میں دوسرے سامان لدے ہوئے ہیں۔ ان جہازوں کو بحفاظت نکالنا ہندوستان کی انرجی سیکورٹی اور آنے والی خریف کی بوائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

حکومت نے شپنگ کارپوریشن آف انڈیا (ایس سی آئی) کے لیے مغربی ایشیا تک خدمات دوبارہ شروع کرنے کی تیاریوں پر کام شروع کر دیا ہے، تاکہ وہاں پھنسے ہوئے مال کی آمد و رفت میں مدد مل سکے۔ اس تجویز سے منسلک ایک سوال کے جواب میں وزارت جہاز رانی کے ایڈیشنل سکریٹری مکیش منگل نے کہا کہ ’’حکومت اس سروس کو شروع کرنے کے امکانات پر فعال طور سے کام کر رہی ہے۔‘‘ لیکن انہوں نے اس کے شروع ہونے کے لیے کسی حتمی وقت کا تعین نہیں کیا ہے۔

منگل (28 تاریخ) کی شام کو جہاز رانی کے وزیر سربانند سونووال کی صدارت میں ہوئی ایک جائزہ میٹنگ میں مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے اثرات اور ان کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت تجارت کے افسران نے بتایا کہ ایس سی آئی کا پہلا جہاز 4000-3000 کنٹینر لے جا سکتا ہے، جن میں زراعت، اور اس سے متعلق سامان یو اے ای کے بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا اور وہاں سے انہیں سڑک کے راستے سے ان کی منزل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

جہاز رانی کی وزارت نے بتایا کہ سونووال نے بیرونی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کی شپنگ صلاحیت کو فوری طور پر بڑھانے کی ضرورت پر زور دی، جس میں کنٹینر جہاز، ایل پی جی اور خام تیل کے ٹینکر اور گرین ٹگ شامل ہیں۔ معاملے کے متعلق جانکاری رکھنے والے افسران نے بتایا کہ پی ایم او 4 مئی کو ایک طویل مدتی ’لچکدار منصوبے‘ پر میٹنگ کرے گا، تاکہ ہندوستان کو ایسی رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔ سمندری مال برداری کی شرحوں میں تیزی اور شپنگ کمپنیوں کی خلیج فارس تک مال پہنچانے میں ہچکچاہٹ کے درمیان شپنگ صلاحیت بڑھانے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی سونووال نے مختلف وزارتوں کے افسران سے کہا کہ حکومت موجودہ مالی سال میں 62 مزید        جہازوں کے اضافے کے لیے روڈ میپ پر کام کر رہی ہے، جس کے لیے 51383 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے 2.85 ملین گراس ٹن کی اضافی صلاحیت پیدا ہوگی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *