الکا لامبا کی قیادت میں خاتون کانگریس نے دہلی اسمبلی کا کیا گھیراؤ، مودی حکومت کے خلاف اٹھائی آواز

خاتون کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے سوال کیا کہ ہم نے سبھی پارٹیوں کے تعاون سے 2023 میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کو پاس کیا تھا، لیکن اسے نافذ کرنے میں آخر اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

الکا لامبا، تصویر آئی اے این ایسالکا لامبا، تصویر آئی اے این ایس

i

user

بی جے پی حکومت نے آج دہلی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، لیکن اسمبلی کے باہر اسے خواتین ریزرویشن معاملہ پر کانگریس کے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ خاتون کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا کی قیادت میں آج خاتون کانگریس کی لیڈران و کارکنان نے دہلی اسمبلی کا گھیراؤ کر مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ سینکڑوں کی تعداد میں جمع خواتین نے ’مہیلا ریزرویشن نافذ کرو، آج کرو، ابھی کرو‘ اور ’او بی سی خواتین کو شامل کرو، شامل کرو‘ جیسے نعرے بلند کیے اور ہاتھوں میں تختیاں و بینر لے کر حکومت کے خلاف اپنا زوردار احتجاج بلند کیا۔

خاتون کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے اس موقع پر سوال کیا کہ ہم نے سبھی پارٹیوں کے تعاون سے 2023 میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کو پاس کیا تھا، لیکن اسے نافذ کرنے میں آخر اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ انھوں نے کہا کہ جب حکومت نے قانون پاس کر دیا ہے تو پھر اسے نافذ کرنے سے پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے۔ الکا لامبا نے مطالبہ کیا کہ لوک سبھا کی 528 سیٹوں پر فوری خواتین ریزرویشن نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی انھوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور خواتین کے نام پر صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کل ہند خاتون کانگریس کی جنرل سکریٹری اور انچارج شلپی اڑوڑا نے خواتین ریزرویشن معاملہ پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو بل پاس ہوا، وہ حقیقی خواتین ریزرویشن بل نہیں بلکہ مودی ریزرویشن بل تھا۔ ملک کی عوام کے سامنے غلط بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کی نیت صاف ہے تو وہ فوراً خواتین ریزرویشن نافذ کرے اور او بی سی خواتین کو بھی اس میں مناسب نمائندگی دے۔

خاتون کانگریس لیڈران کا کہنا ہے کہ ملک کی خواتین اب صرف یقین دہانی نہیں بلکہ حق چاہتی ہیں۔ جب تک خواتین ریزرویشن کو پوری شفافیت اور منصفانہ طریقے سے نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک تحریک جاری رہے گی۔ مظاہرہ کے دوران مودی حکومت کے خلاف خوب نعرہ بازی کی گئی اور وزیر اعظم کا پُتلا نذر آتش کیا گیا۔ اس احتجاجی مظاہرہ میں پشپا سنگھ سمیت دہلی کی سبھی ضلع صدر بڑی تعداد میں شامل ہوئیں اور خواتین ریزرویشن کے مطالبہ کو لے کر حکومت کے خلاف زوردار مظاہرہ کیا۔


[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *