
تلنگانہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جہاں تیز دھوپ اور جھلسا دینے والی گرمی نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے ہیں۔ صبح 8 بجے سے ہی سورج کی تپش سے عوام نڈھال دکھائی دے رہے ہیں۔ ریاست میں پہلی بار درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے جس پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
حکام کے مطابق پیر (27 اپریل) کو صرف ایک دن میں ہیٹ اسٹروک سے دو افراد ہلاک ہوگیے۔ نظام آباد ضلع میں سب سے زیادہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عادل آباد، نرمل اور پدپلی اضلاع میں 45.9 ڈگری اور دیگر علاقوں میں 45 ڈگری سے زائد درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں زیادہ سے زیادہ 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ ہوا، جس کے باعث شہری زندگی متاثر رہی۔
شدید گرمی کے باعث مختلف اضلاع میں اموات بھی رپورٹ ہوئیں، جن میں منچریال کے 56 سالہ بھوگاراپو ماریا، پدپلی کی 19 سالہ دشرتم ساؤمی اور نارائن پیٹ کے ایک بزرگ شخص کی ہیٹ اسٹروک سے موت شامل ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ تین دن تک ہیٹ ویو کی شدت برقرار رہے گی اور درجہ حرارت میں مزید 1 سے 2 ڈگری اضافہ ہو سکتا ہے۔ شمالی تلنگانہ کے چند مقامات پر ہلکی بارش کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
