الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ریاست بھر میں جلد ہی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) عمل شروع کیا جائے گا۔ اس بات کی اطلاع تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی (آئی اے ایس) نے ایک بیان میں دی۔ اس عمل کا مکمل شیڈول جلد جاری کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق، قانون کے تحت ووٹر لسٹ میں ترمیم کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل ہے، اور ہر انتخاب سے پہلے یا ضرورت کے مطابق اس میں اصلاحات کی جاتی ہیں تاکہ ووٹر لسٹ کی شفافیت برقرار رہے۔
انہوں نے بتایا کہ بار بار نقل مکانی کے باعث کئی ووٹرز کے نام ایک سے زیادہ مقامات پر درج ہو رہے ہیں، جبکہ فوت شدہ افراد کے نام بھی حذف نہیں کیے جا رہے، جس سے مختلف مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی لیے ہر اہل شہری کا نام درست طور پر شامل کرنے کے لیے یہ خصوصی عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
فی الحال، ریاست کی موجودہ ووٹر لسٹ میں درج ناموں کو 2002 میں ہونے والی آخری SIR کے ریکارڈ سے ملایا جا رہا ہے۔ یہ عمل بی ایل اوز، اے ای آر اوز اور ای آر اوز کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، اور ووٹرز کو اپنی معلومات “اینومریشن فارم” میں درج کرنا ہوگی۔
ووٹرز اپنی تفصیلات درج ذیل ویب سائٹس پر بھی چیک کر سکتے ہیں:
https://ceotelangana.nic.in
https://voters.eci.gov.in
“Search by Elector Details” کے ذریعے یا پولنگ اسٹیشن وائز PDF فائل میں بھی نام تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
اگر کسی ووٹر کا نام 2002 کی فہرست میں موجود نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس وقت رجسٹریشن نہیں ہوا تھا۔ ایسی صورت میں اپنے والدین یا دادا پردادا کی تفصیلات تلاش کر کے فارم میں درج کرنا ہوگا۔ 2002 کی فہرست کی پرنٹ کاپیاں بھی بی ایل او کے پاس دستیاب ہوں گی۔
اینومریشن مرحلے میں کسی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم جن ووٹرز کی تفصیلات 2002 کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں، انہیں نوٹس جاری کیے جائیں گے اور بعد میں دستاویزات پیش کرنا ضروری ہوگا۔
ضروری دستاویزات میں شامل ہیں:
سرکاری ملازمین یا پنشنرز کے شناختی کارڈ/پنشن آرڈر
1 جولائی 1987 سے پہلے جاری شدہ سرکاری شناختی دستاویزات
برتھ سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ
تعلیمی اسناد
مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ
ذات (OBC/SC/ST) سرٹیفکیٹ
فیملی رجسٹر، زمین یا مکان الاٹمنٹ دستاویزات وغیرہ
اعلان میں تمام ووٹرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی یا اپنے بزرگوں کی تفصیلات درست کر کے بی ایل او یا متعلقہ افسران سے رابطہ کریں تاکہ 2002 SIR سے لنک ہو سکے اور مستقبل میں کسی پریشانی سے بچا جا سکے۔
مزید معلومات کے لیے ووٹرز اپنے پولنگ اسٹیشن کے بی ایل او یا ای آر او سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
