واضح رہے کہ برکس+ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ کا نہ آنا سفارتی سطح پر ایک غیر معمولی صورتحال سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ایسے اجلاس عموماً متفقہ مؤقف کے ساتھ اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف برکس+ کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر مغربی ایشیا کے مسئلے پر بڑھتی ہوئی تقسیم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
’برکس پلس اجلاس‘ بغیر مشترکہ اعلامیہ کے ختم، کانگریس نے حکومت پر اسرائیل کے حق میں مؤقف نرم کرنے کا لگایا الزام
