ایک طرف آئی آر جی سی نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنا ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے بندرگاہوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔


i
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ 24 گھنٹوں سے 3 ممالک کے دورے پر ہیں۔ سب سے پہلے عراقچی اتوار کو پاکستان پہنچے۔ وہ 3 روز میں دوسری بار اسلام آباد گئے اور وہاں پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس سے قبل انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ افسران سے بات کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان میں ایک ریڈ لائن دستاویز سونپی، جس میں ایران کی واضح شرائط مذکور تھیں۔ اس میں جوہری مسائل اور آبنائے ہرمز سے متعلق تجاویز تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے مسائل حل کرنے کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ دیا ہے
ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کے بعد عمان گئے۔ وہاں انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی، اس دوران آبنائے ہرمز اور علاقائی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ہرمز سے وابستہ ممالک کو مل کر یہ یقینی بنانا چاہیے کہ یہ راستہ محفوظ رہے، کیونکہ اس سے دنیا کو فائدہ ہوتا ہے۔ 3 ہفتہ قبل آئی ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران عمان کے ساتھ مل کر ہرمز میں ایک ٹول بوتھ بنانے والا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کا ایک سرا عمان میں ہے۔ ایران کو ڈر ہے کہ امریکہ، عمان میں بیس بنا سکتا ہے اس لیے وہ ٹول کا پیسہ عمان کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔
عمان دورہ کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر (27 اپریل) کو روس پہنچے ہیں۔ یہاں ان کی ملاقات صدر ولادیمیر پوتن سے ہوگی۔ اس میٹنگ میں علاقائی سیکورٹی، مغربی ممالک کی پابندیاں اور ہرمز بحران جیسے مسائل پر تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔ عراقچی کے یہ بیرون ممالک دورے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ کے ساتھ بات چیت میں رکاوٹ آئی ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلے اپنے نمائندوں اسٹیو وِٹکاف اور جاریڈ کُشنر کا پاکستان دورہ منسوخ کر دیا تھا، کیونکہ بات چیت آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس پر کنٹرول رکھنا ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے بندرگاہوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات بند ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
