تیجسوی یادو نے کہا کہ ’’صرف انتخابی فائدہ لینے کے لیے این ڈی اے نے بہار کی خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ ان کے بچوں کے حال اور مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔‘‘
i
بہار میں وزیر اعلیٰ بدلنے کے بعد سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو مسلسل این ڈی اے حکومت کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد نے پیر کو کہا کہ بہار کی خواتین کے ساتھ این ڈی اے حکومت نے دھوکہ کیا ہے، سفید جھوٹ بول کر ان کے جذبات کا استحصال کیا اور کروڑوں خواتین کے ساتھ دن دہاڑے دھوکہ دہی کیا ہے۔
تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار اسمبلی انتخاب میں شکست کے خدشے کے پیش نظر انتخاب کے دن تک بینک کھلوا کر ووٹرس کو متاثر کرنے کے لیے این ڈی اے حکومت نے خواتین اور جیویکا دیدیوں کے بینک کھاتوں میں 10 ہزار روپے بھیجے۔ انہیں لالچ دے کر، سخت وارننگ اور دھمکی کے ساتھ ڈرا کر کہا گیا کہ پولنگ مراکز میں کیمرا لگا ہے۔ اگر فلاں پارٹی کے فلاں نشان پر بٹن نہیں دبائیں گے تو آپ کے کھاتے میں آئے پیسے واپس لے لیے جائیں گے۔
آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ یہ لالچ دیا گیا تھا کہ انتخاب کے بعد 6 ماہ کے اندر بقیہ دوسری قسط کی صورت میں 2 لاکھ روپے بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے ایک پریس بیان جاری کر الزام عائد کیا کہ 6 ماہ ہو گئے ہیں اور اب یہ دھوکے باز-دغا باز لیڈر اپنی کرسی کے کھیل میں مشغول ہے۔ خزانہ خالی ہے اور مالی حالت بدتر ہو چکی ہے۔ تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ انتخاب کے بعد پہلے سے اس منصوبہ میں رجسٹرڈ 18 لاکھ خواتین کو نہ تو پہلے قسط کے روپے ملے اور نہ ہی ایک کروڑ 81 لاکھ جیویکا دیدیوں اور خواتین کو دوسری قسط ملی۔ حالانکہ انتخاب کے وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ اس منصوبہ کے تحت خواتین کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
سابق نائب وزیر اعلیٰ بہار تیجسوی یادو کا کہنا ہے کہ انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے این ڈی اے نے بہار کی خواتین کے ساتھ دھوکے بازی کی ہے، ان کے بچوں کے حال اور مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ نوجوانوں کے خوابوں کا قتل کیا ہے۔ تعلیم، صحت اور زراعت جیسے شعبوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بہار میں بدنظمی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جانتی تھی کہ بہار کے پاس محدود وسائل ہونے کے باوجود قرض لے کر انتخاب کے آخری دنوں میں ووٹ لوٹنے کے لیے مختلف مد میں 41000 کروڑ روپے نقد رقم تقسیم کرنا خود کشی کے مترادف ہے۔ لیکن کرسی کے لالچی لوگوں نے ریاست کے مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
