عآپ کو پھر ملی بری خبر، راگھو چڈھا سمیت سبھی باغی اراکین پارلیمنٹ کو راجیہ سبھا نے دی منظوری

عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا چیئرمین سی پی رادھاکرشنن کو خط لکھ کر گزارش کی تھی کہ عآپ چھوڑنے والے اراکین پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیا جائے، لیکن ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی (عآپ) کے لیے دن بہ دن حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ راجیہ سبھا نے راگھو چڈھا سمیت عآپ کے سبھی 7 باغی اراکی پارلیمنٹ کو منظوری دے دی ہے، جبکہ پارٹی نے ان کی رکنیت ختم کرنے کی گزارش کی تھی۔ راجیہ سبھا نے نہ صرف عآپ کے ساتوں باغی اراکین کو منظوری دی ہے، بلکہ انھیں بی جے پی کا رکن پارلیمنٹ بھی مان لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں راجیہ سبھا سکریٹریٹ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

راجیہ سبھا سکریٹریٹ نے عآپ سے بی جے پی میں شامل ہوئے سبھی اراکین پارلیمنٹ سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر انھیں بی جے پی کا حصہ بتایا ہے۔ اس طرح اب ایوان بالا میں بی جے پی اراکین کی تعداد بڑھ کر 113 پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل 26 اپریل کو عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا چیئرمین سی پی رادھاکرشنن کے نام ایک خط لکھا تھا۔ اس خط میں گزارش کی گئی تھی کہ عآپ چھوڑنے والے اراکین پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیا جائے۔ خط میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’’یہ اراکین پارلیمنٹ عآپ کی ٹکٹ پر ایوان بالا کے لیے منتخب ہوئے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے پارٹی چھوڑنے اور بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔‘‘

سنجے سنگھ نے کہا تھا کہ عآپ کے ساتوں اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے اٹھایا گیا قدم ’دَل بدل‘ کے یکساں ہے۔ یہ پنجاب کی عوام اور ہندوستانی آئین کے ساتھ دھوکہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر عآپ اس معاملہ میں قانونی قدم اٹھائے گی۔ حالانکہ اب راجیہ سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن نے عآپ کی گزارش خارج کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ اب ان اراکین پارلیمنٹ کو بی جے پی کا ہی مانا جائے گا، یعنی ایوان بالا میں عآپ کے اراکین کی تعداد 10 سے گھٹ کر 3 ہو گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *