ڈاکٹر تبریز حسین تاج
حیدرآباد
مردم شماری 2027 ہندوستان کی انتظامی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور انقلابی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جسے نہ صرف ایک روایتی شماریاتی مشق بلکہ جدید حکمرانی کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ ملک کی پہلی مکمل ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی، جو ٹیکنالوجی، شفافیت اور مؤثر ڈیٹا مینجمنٹ کے امتزاج سے ایک نئے عہد کی بنیاد رکھے گی۔ اس عظیم قومی عمل کا مقصد صرف آبادی کے اعداد و شمار جمع کرنا نہیں بلکہ ریاستی پالیسیوں کی تشکیل، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سماجی و اقتصادی منصوبہ بندی کو زیادہ درست، جامع اور دور رس بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
برصغیر میں مردم شماری کی روایت اپنی جڑیں تاریخ کے قدیم ادوار میں رکھتی ہے۔ کوٹیلیہ کے “ارتھ شاستر” اور مغلیہ دور کی مشہور تصنیف “آئینِ اکبری” میں بھی آبادی کے شمار اور نظم و نسق کے حوالے ملتے ہیں۔ تاہم جدید طرزِ مردم شماری کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا، جب 1881 میں پہلی مرتبہ پورے برطانوی ہند میں ایک باضابطہ اور ہمہ گیر مردم شماری کی گئی۔ اس کے بعد سے ہر عشرے میں یہ تسلسل قائم رہا، جو آج ایک انتہائی منظم اور سائنسی عمل کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
کووڈ-19 وبا کے باعث 2021 کی مردم شماری موخر ہونے کے بعد اب 2027 کی مردم شماری اس تسلسل کی نئی کڑی ہے، جو آزادی کے بعد آٹھویں اور مجموعی طور پر سولہویں مردم شماری قرار پائے گی۔اس مردم شماری کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا مکمل طور پر ڈیجیٹل ہونا ہے۔ جدید موبائل ایپلیکیشنز، جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS)، سیٹلائٹ میپنگ اور مرکزی مانیٹرنگ پورٹلز کے ذریعے یہ عمل پہلے سے کہیں زیادہ شفاف، تیز رفتار اور منظم انداز میں انجام پائے گا۔
شہریوں کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ خود اپنی معلومات “سیلف اینومیریشن” کے ذریعے آن لائن درج کر سکیں، جس کے بعد انہیں ایک منفرد شناختی نمبر فراہم کیا جائے گا، جو بعد ازاں فیلڈ تصدیق کے لیے استعمال ہوگا۔اس بار ایک اہم اور تاریخی پیش رفت کے طور پر مردم شماری میں منظم انداز میں ذات پات کی گنتی کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو سماجی ڈھانچے کی بہتر تفہیم اور جامع پالیسی سازی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ پورا عمل دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے؛ پہلے مرحلے میں گھروں اور بنیادی سہولیات کا تفصیلی سروے ہے
جو 26 اپریل2026سے 10مئی2026تک جاری رہیگا،مردم شماری 2027 میں شہریوں کی سہولت کے لیے کی گئی ایک بڑی اختراع “خود شماری” کی سہولت کا تعارف ہے۔یہ سہولت ایک خصوصی آن لائن پورٹل https://se.census.gov.in/ کے ذریعے دستیاب کرائی گئی ہے۔یہ پورٹل اردو کے بشمول 16 زبانوں (آسامی، بنگالی، انگریزی، گجراتی، ہندی، کنڑ، کونکنی، ملیالم، منی پوری، مراٹھی، نیپالی، اوڈیا، پنجابی، تامل، تیلگو اور اردو) میں دستیاب ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں آبادی کی سماجی، معاشی، تعلیمی اور ثقافتی معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔
حکومت نے اس عظیم قومی منصوبے کے لیے خطیر مالی وسائل مختص کیے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے، جس میں مردم شماری افسران، سپروائزرز اور تکنیکی ماہرین شامل ہیں۔ انہیں جدید تربیتی پروگراموں کے ذریعے اس قابل بنایا جا رہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل نظام کے تحت درست اور معیاری ڈیٹا اکٹھا کر سکیں۔ ساتھ ہی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے جدید ترین سائبر سیکیورٹی نظام، انکرپشن ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی معیار کے حفاظتی پروٹوکول نافذ کیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کی معلومات ہر قسم کے غیر مجاز استعمال سے محفوظ رہیں۔
یہ مردم شماری محض ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک فکری اور ترقیاتی تحریک ہے، جو ہندوستان کو اکیسویں صدی کی ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کی جانب لے جا رہی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والا جامع اور مستند ڈیٹا تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور سماجی بہبود کے شعبوں میں زیادہ مؤثر اور ہدفی پالیسی سازی کی بنیاد فراہم کرے گا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ مردم شماری 2027 نہ صرف ایک شماریاتی عمل ہے بلکہ ایک ایسا قومی وژن ہے جو ہندوستان کو زیادہ منظم، شفاف اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف گامزن کرے گا، جہاں فیصلے قیاس آرائیوں پر نہیں بلکہ مستند حقائق اور سائنسی ڈیٹا کی روشنی میں کیے جائیں گے۔
