ایران دباؤ، دھمکی اور محاصرے کے تحت مسلط کردہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا، صدر پزشکیان

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوری ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے ٹیلیفونک گفتگو میں امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ حملوں کے بعد صورت حال، جنگ بندی کے استحکام اور اسلام آباد میں جاری سفارتی اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔

صدر پزشکیان نے گفتگو کے دوران موجودہ حالات سے نکلنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان مشترکہ فہم اور مشترکہ موقف کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر مذاکرات کے لیے مشترکہ نقطۂ نظر اور مناسب ماحول کی تشکیل بنیادی شرط ہے۔

انہوں نے ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے حالیہ زمینی اور سمندری پابندیوں میں اضافے کو اعتماد سازی کے عمل اور سفارت کاری کی پیش رفت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کے پیغامات دیے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب سمندری محاصرہ اور عملی دباؤ میں اضافہ اعتماد کے ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی خطے میں عدم استحکام کا خواہاں ہے، تاہم امریکا کی جانب سے جاری دشمنانہ اقدامات، خصوصا سمندری محاصرہ، اس کے سیاسی حل کی خواہش کے دعووں سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہی تضاد ایران کے عوام اور حکام کے درمیان عدم اعتماد کو بڑھا رہا ہے۔ ایرانی عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر واقعی سفارت کاری کا ارادہ موجود ہے تو پھر دباؤ، محاصرہ اور دشمنانہ اقدامات بیک وقت کیوں جاری رکھے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا راستہ اسی وقت مؤثر نتائج دے سکتا ہے جب دوسرا فریق دھمکی اور دباؤ کی پالیسی کے بجائے اعتماد سازی اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ ایران بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے صرف اپنے عوام کے جائز حقوق کے حصول پر زور دیتا ہے۔

صدر نے کہا کہ دشمنانہ اقدامات کا خاتمہ اور یہ یقین دہانی کہ مذاکرات کے دوران وعدہ خلافی یا جارحانہ کارروائیاں دوبارہ نہیں ہوں گی، اعتماد کی بحالی اور مسائل کے حل کے لیے ضروری ہیں۔

پزشکیان نے کہا کہ ایران اب بھی ہر اس منطقی اور منصفانہ راستے کا خیرمقدم کرتا ہے جو باہمی احترام پر مبنی ہو، اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے امریکا کو ایک ذمہ دارانہ مذاکراتی فریم ورک کی طرف لے جائیں جو دباؤ اور دھمکی سے پاک ہو۔

انہوں نے جنگ بندی کے تحفظ اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔

گفتگو کے دوران پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر اور عوام کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے وزیرِخارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان اور اسلام آباد میں ہونے والی تفصیلی بات چیت کو سراہا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ ایران نے اس پر اعتماد کیا ہے اور اسلام آباد اس سلسلے میں ایک باعزت اور پائیدار حل کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ایران کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں اور ایران کے عوام کی ہمت، استقامت اور برداشت کو سراہتے ہیں۔

وزیرِاعظم پاکستان نے ایران کے خلاف ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ابتدا ہی سے ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر دباؤ یا جنگ کے ذریعے اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، ایرانی عوام نے غیرمعمولی مزاحمت اور صبر کا مظاہرہ کیا ہے اور ایران میں نظام کی تبدیلی کا تصور غیرحقیقی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حساس مرحلے میں ضروری ہے کہ تمام سفارتی کوششیں بروئے کار لائی جائیں تاکہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن قائم ہو سکے، کیونکہ موجودہ حالات میں جنگ کوئی حل نہیں بلکہ واحد قابل اعتماد راستہ امن ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *