مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے اعتراف کیا ہے کہ تل ابیب کی جانب سے جنگ بندی قبول کرنا دراصل حزب اللہ کے مقابلے میں محدود عسکری صلاحیت اور بڑھتے ہوئے دباؤ کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سوچ مضبوط ہو رہی ہے کہ صہیونی فوج کی طویل اور پیچیدہ جنگ کو سنبھالنے کی صلاحیت میں کمی کے پیشِ نظر موجودہ حالات میں حزب اللہ کو مکمل طور پر فوجی طاقت کے ذریعے ختم کرنا غیرحقیقی ہے۔
اخبار نے ایک صہیونی عہدیدار کے حوالے سے لکھا کہ عملی طور پر کوئی بھی عسکری ذریعہ حزب اللہ کے میزائل حملوں کو مکمل طور پر روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور تل ابیب زیادہ سے زیادہ اس کی طاقت کو محدود کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج کو بیک وقت متعدد محاذوں پر کارروائیوں، تھکن اور ریزرو فورسز پر شدید انحصار جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ حزب اللہ کے خلاف کسی ہمہ گیر آپریشن کے لیے بڑے پیمانے پر اضافی افواج درکار ہوں گی، جو موجودہ حالات میں ناممکن ہے۔
صہیونی حکام کے اعتراف کے مطابق جنگ بندی نہ صرف ایک سیاسی ضرورت تھی بلکہ ایک عملی عسکری تقاضا بھی تھا، جس کا مقصد قابض فوج پر دباؤ کم کرنا اور کئی ماہ سے جاری متعدد محاذوں کی جنگ کے بعد اہداف کی ازسرنو ترجیح بندی کرنا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت عملا واضح فوجی فتح کی حکمت عملی سے ہٹ کر ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کی طرف منتقل ہوچکی ہے اور حزب اللہ کے مکمل خاتمے کا ہدف فی الحال ترک کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل ہیوم نے مزید لکھا کہ عسکری حکام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حزب اللہ کو فوجی طور پر شکست نہیں دی جا سکی۔ جنوبی لبنان میں تباہی کی تصاویر اور رپورٹس کی اشاعت نے صہیونی حکومت کے لیے خاص طور پر یورپ اور امریکا میں سیاسی و سفارتی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
