
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: تقریبا دو ماہ قبل جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تمام آپشن میز پر ہونے کی دھمکی دی تو واشنگٹن میں عمومی خیال یہ تھا کہ ایک محدود، تیز اور کنٹرول شدہ فوجی کارروائی طاقت کا توازن جلد ہی امریکہ کے حق میں بدل سکتی ہے۔ اس تصور کے تحت جنگ کو ایک پیچیدہ اور مہنگے عمل کے بجائے ایسے فوری ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جس کے ذریعے چند مخصوص حملوں کے بعد ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جاسکے اور پھر فتح کا اعلان کر کے معاملہ سیاسی مذاکرات کی طرف موڑ دیا جائے۔
تاہم عملی صورت حال اس ابتدائی تصور سے مختلف ثابت ہوئی۔ تقریبا چالیس دن تک جاری رہنے والی کشیدگی اور جھڑپوں نے جہاں امریکی طاقت کا مظاہرہ ہونا تھا، وہاں اس کی متعدد کمزوریوں کو بھی نمایاں کر دیا۔ جو کارروائی مختصر اور فیصلہ کن سمجھی جا رہی تھی وہ بتدریج ایک طویل اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوگئی، جہاں نہ صرف ابتدائی اہداف حاصل نہ ہو سکے بلکہ اخراجات بھی مسلسل بڑھتے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ایک محدود فوجی کارروائی محض عسکری مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اسٹریٹجک چیلنج میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس مقام پر فیصلہ ساز یہ نہیں سوچتے کہ جنگ کیسے جیتی جائے، بلکہ یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہو سکتا ہے۔
اس تبدیلی کی جھلک وائٹ ہاؤس کے بیانات اور طرزِ عمل میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ مختلف ڈیڈ لائنز سے پیچھے ہٹنا، سخت دھمکی آمیز لہجے کی جگہ مذاکرات کی بات کرنا اور ثالثی کے مختلف راستے تلاش کرنا اس بات کی علامت سمجھے جا رہے ہیں کہ واشنگٹن اب واضح فتح کے منصوبے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اس بحران سے باعزت نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پالیسی سازی کے حلقوں میں صورتحال کے بارے میں سنجیدہ غور و فکر جاری ہے۔
ایران کا غیر متزلزل موقف اور امریکی ناکامی
میدانِ عمل میں، امریکہ کی سب سے بڑی شکست یہ تھی کہ وہ ایران کے رویے میں تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔ ابتدائی اندازوں کے برخلاف، فوجی دباؤ نے نہ تو ایران کے عزم کو کمزور کیا، بلکہ اس کے برعکس، فیصلہ سازی کی سطح پر زیادہ یکجہتی اور بحران کو سنبھالنے کی آمادگی میں اضافہ پیدا کیا۔ یہی وہ بنیادی غلطی تھی جو شروع سے اس جنگ کے ڈیزائن میں موجود تھی: یہ گمان کہ ایک فوجی جھٹکے کے ذریعے ایک پیچیدہ اور کئی تہوں پر مشتمل نظام کو تیزی سے بدل دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، امریکہ میدان کی صورتحال بھی اپنے حق میں بدل نہ سکا۔ اگرچہ عسکری سطح پر امریکہ کی برتری سے انکار ممکن نہیں، لیکن اس برتری کو اسٹریٹجک سطح پر کوئی پائیدار کامیابی میں نہیں بدلا جا سکا۔ ایسی صورتحال میں جنگ طاقت کے ایک مؤثر ہتھیار کے بجائے خود ایک پیچیدہ عامل میں تبدیل ہوجاتی ہے؛ ایسی پیچیدگی جو صرف مادی وسائل ہی نہیں، بلکہ ساکھ اور بین الاقوامی حیثیت کو بھی نشانہ بناتی ہے۔
دوسری جانب، واشنگٹن کے ضمنی اہداف میں سے ایک ایران کے خلاف ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینا تھا؛ یہ ہدف بھی مکمل طور پر حاصل نہ ہو سکا۔ بہت سے بین الاقوامی کھلاڑیوں نے، خاص طور پر اس وقت جب جنگ کے اقتصادی اور سکیورٹی اخراجات بڑھنے لگے، ایک طویل اور نامعلوم انجام والی کشیدگی کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ نتیجتاً، امریکہ نہ صرف میدان جنگ میں، بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایسی مشکلات سے دوچار ہوا جنہوں نے اس کی حرکت کی گنجائش کم کردی۔
امریکی اہداف اور عملی نتائج میں واضح فرق
اس جنگ کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے جو ہدف پہلے اعلان کیے تھے، وہ عملی طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔ یہ صرف ایک معمولی جنگی غلطی نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ کی بڑی طاقت ہونے کی ساکھ کمزور ہوئی ہے۔ جب کوئی بڑی طاقت اپنے ہی منصوبے پورے نہ کر سکے تو اس کا اثر فوراً دنیا بھر کے ملکوں کی سوچ اور فیصلوں پر پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں باعزت طریقے سے نکلنا ایک اہم نعرہ بن جاتا ہے۔ بظاہر اس کا مطلب جنگ ختم کرنا ہوتا ہے، لیکن واقعی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ناکامی کو ایک معقول فیصلے کی شکل میں پیش کیا جائے۔
امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ بغیر کسی واضح کامیابی کے جنگ سے نکل گیا تو اسے اندرونی سیاست میں بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا اور عالمی سطح پر بھی اس کی طاقت کا تاثر متاثر ہوگا۔ اسی وجہ سے واشنگٹن اس وقت محدود فوجی کارروائیوں، سفارتی کوششوں اور میڈیا کے ذریعے بیانیہ بنانے جیسے اقدامات کو ملا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ جنگ سے نکلنا اس کی کمزوری نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمینی حالات کو صرف الفاظ بدل کر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
جب کوئی جنگ دلدل بن جائے تو اس میں مزید رہنا اخراجات اور مسائل بڑھاتا ہے، اور نکلنے کا مطلب کسی نہ کسی درجے پر ناکامی کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ یہی وہ مشکل فیصلہ ہے جس کا سامنا اس وقت امریکہ کو ہے: یا تو بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرے، یا پھر جنگ چھوڑ کر اس کے نتائج قبول کرے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس جنگ نے ایران اور دوسرے عالمی کھلاڑیوں کے بارے میں امریکہ کے آئندہ فیصلوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ ان چالیس دنوں کے تجربے نے یہ واضح کر دیا کہ صرف فوجی طاقت سے پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ ممکن ہے کہ اس تجربے کے بعد امریکہ اپنی خارجہ پالیسی کے طریقوں پر دوبارہ غور کرے، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ تبدیلی کتنی گہری اور دیرپا ہوگی۔
حاصل سخن
اس جنگ سے ایک سادہ مگر اہم حقیقت سامنے آئی ہے کہ طاقت صرف اس بات میں نہیں کہ کوئی ملک جنگ شروع کر سکتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ اسے کیسے اور کب ختم کرتا ہے۔ امریکہ نے جب یہ جنگ شروع کی تو اسے لگا کہ حالات اس کے قابو میں ہیں، لیکن اب وہ ایسی صورتِ حال کا سامنا کر رہا ہے جسے سنبھالنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں، جو جنگ طاقت کے مظاہرے کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب اسی طاقت کی حدود کو جانچنے کا امتحان بن گئی ہے۔ اس وقت امریکہ کسی واضح فاتح کی پوزیشن میں نہیں، بلکہ ایک ایسے فریق کی حیثیت سے کھڑا ہے جو اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے کم خرچ اور کم نقصان والا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ ایسا راستہ جو بظاہر کامیابی کے طور پر پیش کیا جاسکے، مگر اس وقت حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ایک ایسی مشکل صورتحال میں پھنس گیا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں اور اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی۔
