مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ غزہ میں صحت کے نظام کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے تقریبا 10 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عالمی ادارۂ صحت کی نمائندہ راین ہیلده فان دوردت نے بتایا کہ اس رقم کی ضرورت آئندہ پانچ سال میں پیش آئے گی۔ اس میں تباہ شدہ اسپتالوں اور طبی مراکز کی تعمیر، طبی خدمات کی بحالی اور مریضوں کے علاج کے انتظامات شامل ہیں۔
ان کے مطابق جنگ کی وجہ سے ہزاروں افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جن میں بہت سے ایسے ہیں جو اعضا کے ضائع ہونے، فالج اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں بچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں 1800 سے زیادہ صحت کے مراکز یا تو مکمل تباہ ہوچکے ہیں یا بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بے گھر افراد کے لیے قائم 1600 سے زائد پناہ گاہوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں صفائی کے مسائل، چوہوں اور کیڑوں کی موجودگی جیسے مسائل عام ہیں، جس سے تقریباً 14 لاکھ 50 ہزار افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
مزید یہ کہ 80 فیصد سے زیادہ پناہ گاہوں میں جلدی بیماریوں اور دیگر متعدی امراض جیسے گال، جوئیں اور کھٹمل کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس سے غزہ میں صحت کا بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
