
حیدرآباد ۔موسمِ گرما اپنی شدت پر ہے‘ گرمی اس قدر ہے کہ گویا آگ برس رہی ہے، رسولِ رحمت ﷺ نے جہاںأطعموا الطعام کا حکم دے کربھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دی ،وہیں پیاسوں کو پانی پلانے کو افضل ترین صدقہ قرار دے کر پانی پلانے کی اہمیت و فضیلت کو اجاگر کیا
ہم مسلمانوں میں ایسے خوش نصیب مسلمان بھی ہیں جو ہمیشہ صدقۂ جاریہ کے عادی ہیں، کہیں مسجدیں بنوا دیتے ہیں، کہیں بورویلس تنصیب کر دیتے ہیں، کہیں مدارس کی تعمیر کروا دیتے ہیں ،یقیناً ایسےسعادتمند لوگ واقعی قابلِ رشک ہیں اور مسلمانوں میں وہ حضرات بھی ہیںجو لائقِ تقلید ہیں جو پیاسوں کو پانی پلانے کا اہتمام و انتظام کرتے ہیں ،یہ وہ خدمت ہے کہ شدید پیاس میں مبتلا شخص ٹھنڈا اور صاف پانی پی کر دل کی گہرائیوں
سے جو دعا دیتا ہے وہ یقیناً اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کا باعث بن جاتی ہے ،ان خیالات کا اظہار مولانا غیاث احمد رشادیؔ صدر صفا بیت المال موسمِ گرما کے موقع پر پانی پلانی کی اہمیت پر اپنے صحافتی بیان میں کیا، مولانا نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کی روشنی میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ موسم گرما میں پانی کی سبیلیں قائم کریں اور موسم کی شدت کو محسوس کریں
اور ٹھنڈے اور صاف پانی کی سببیلیں اپنی اپنی طاقت کے بقدر لگائیں اور انسانیت کی بنیاد پر پانی پلانے کا معقول انتظام کریں، حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ مجھے صدقہ کا حکم دیجیے یعنی بتلائیے کہ میں صدقہ کروں تو کیا کروں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی پلاؤ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق پانی پلانے کی دو جگہیں تیار کیں، حضرت حسن رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ میں پانی پلانے کی دونوں جگہوں کے درمیان دوڑتا تھا جبکہ میں چھوٹا تھا ،رسولِ رحمتﷺ نے فرمایا کہ ہر سو کھے جگر یعنی پیاسے جگر جس کو تو پانی پلائے اس کا اجر ہے اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ پیاسے جانوروں کو پانی پلانا بھی انبیاءِ کرام علیہم السلام کی سنت ہے جب حضرت موسی علیہ السلام مصر سے مدین
پہنچے تو حضرت شعیب علیہ السلام کی لڑکیاں کے جانوروں کوخودآپ نے پانی پلایاتھا۔لہذا صاحبِ ثروت افراد اپنی اپنی طاقت کے بقدرانسانیت کی بنیاد پر پانی کی سبیلیں قائم کر کے ٹھنڈے اور صاف پانی کا معقول انتظام کرنے کی کوشش کریں۔
