ہر اہل صحافی کو ایکرڈیٹیشن کارڈ جاری کیا جائیگا  –  صحافیوں کیلئے فیملی ہیلت کارڈ کی اجرائی قابل تقلید اقدام 

ہر اہل صحافی کو ایکرڈیٹیشن کارڈ جاری کیا جائیگا

صحافیوں کیلئے فیملی ہیلت کارڈ کی اجرائی قابل تقلید اقدام

نظام آباد پریس کلب اور ویلنس ہاسپٹل کی جانب سے صحافیوں کے افراد خاندان کیلئے ہیلت کارڈ کی تقسیم سے تلنگانہ پریس اکیڈیمی چیرمین سرینواس ریڈی، ڈاکٹر کویتار ریڈی کا خطاب

 

نظام آباد:22/اپریل (اردو لیکس) تلنگانہ میڈیا اکیڈیمی اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کررہی ہے کہ ہر اہل صحافی کو ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہارمہمان خصوصی پریس اکیڈیمی چیرمین کے سرینواس ریڈی نے آج نظام آباد پریس کلب اور ویلنس ہاسپٹل کے زیر اہتمام امبیڈ کر بھون میں منعقدہ صحافیوں میں مفت فیملی ہیلت کارڈ س کی تقسیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس پروگرام کی صدارت نظام آباد پریس کلب صدر پنچا ریڈی نے کی۔

 

تلنگانہ پریس اکیڈمی چیرمین مسٹر کے سرینواس ریڈی نے نظام آباد کے صحافیوں کے بشمول افراد خاندان کو طبی علاج کی فراہمی کیلئے جاری کئے جارہے جرنلسٹ فیملی ہیلتھ کارڈ کو ایک منفرد اور حیرت انگیز فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایک خانگی دواخانہ کے انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کے حق میں اس طرح کا فیصلہ کیاجانا قابل تقلید عمل ہے۔ کے سرینواس ریڈی نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش میں آنجہانی چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور مابعد علیحدہ ریاست تلنگانہ چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے صحافیوں کو ہیلتھ انشورنس پالیسی کے تحت صحافیوں کیلئے 1/3اور حکومت کی جانب سے 2/3 اخراجات برداشت کرنے کی پالیسی رائج کی تھی اس کے بعد آروگیہ شری اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا۔

 

اس سلسلہ میں ورکنگ جرنلسٹ کیلئے خصوصی جی او جاری کیا گیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے مفت علاج کی پالیسی قائم کی جو صرف دو سال تک ہی برقرار رہ سکی۔ خانگی دواخانہ انتظامیہ کو 900کروڑ روپئے بقایہ جات کے ادائیگی کا مسئلہ درپیش رہا اور خانگی دواخانہ انتظامیہ نے تعاون کرنا بند کردیا جس کی وجہہ سے مسائل پیدا ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ طب اور تعلیم سماج سے دور ہوتا جارہا ہے جس کیلئے سرمایہ دار وں کو دولت کا حصول آسان ہوگیا۔ پریس اکیڈمی چیرمین کے سرینواس ریڈی نے صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈ کی اجرائی کے سلسلہ میں بتایاکہ تاحال ریاستی ایکریڈیٹیشن کمیٹی اب تک چار مرتبہ میٹنگ کرچکی ہے۔ 23/اپریل کو ایک اور اجلاس منعقد کیاجارہا ہے جس میں کچھ اصلاحی تبدیلیاں لائی جائیں گی جس سے واقف کروایاجائے گا۔

 

انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ نے اردو اخبارات کے صحافیوں کو بھی دیگر اخبارات انگلش، تلگو کی طرح ایک ہی دستور ہونا چاہئے۔اور اخبارات میں A,B,C,Dزمرہ بندی نہیں چلے گی۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو سفارش کی کہ تمام اخبارات کو یکساں دستور کے تحت ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں تلنگانہ ریاست کے تمام جرنلسٹ یونین سے بات چیت و تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ تلنگانہ ریاست میں 23ہزار ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کئے گئے۔ گذشتہ کی طرح اس مرتبہ بھی پچھلے قواعد کی طرح ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ پیانل ہو یا ان پیانل اخبارات کو آر این آئی رجسٹریشن کی بنیاد پر ہر حال میں ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اخبارات کی اشاعت کے سلسلہ میں غلط اعداد و شمار پیش کئے جانے کے خلاف ایک سہ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تمام اخبارات کی اشاعت کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ پیش کرے گی

 

۔ پریس اکیڈمی چیرمین کے سرینواس ریڈی نے کہا کہ ایکریڈیٹیشن کارڈ کے بے جا استعمال یا رقمی طورپر فروخت کئے جانے پر اظہار تاسف کرتے ہوئے کہاکہ دیگر سرگرمیوں میں پولیس عہدیدار کاروائی کرنے پر ایکریڈیٹیشن کارڈ بتاکر اپنے آپ کو صحافی ظاہرکرنے کے کئی واقعات منظر عام پر آرہے ہیں جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ آندھرااور تلنگانہ ریاست میں جتنے ایکریڈیٹیشن کارڈ س جاری کئے گئے ہیں اتنے ایکریڈیٹیشن کارڈ ملک بھر میں جاری نہیں کئے گئے۔ کے سرینواس ریڈی نے کہاکہ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے لکھے گئے دستور میں میڈیا کے تعلق سے کہیں بھی اس کا ذکر و وضاحت نہیں کی گئی۔ ایگزیکٹیو جوڈیشری اور حکمرانی کا ہی دستور میں ذکر ہے جبکہ صحافت کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے غیر ذمہ دار سوشل میڈیا کی میڈیا پر تحدیدات عائد کرنے کا قانون نافذ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ پرنٹ و الکٹرانک میڈیا کی ناکامی کی وجہہ سے لوگ سوشل میڈیا کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہر ایک شعبہ کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی قواعد ضوابط عائد ہے

 

جبکہ سوشل میڈیا پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔میڈیا پر پابندی عائد ہونے سے پھر ایک مرتبہ ایمرجنسی کے نفاذ کا خطرہ لاحق ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہر ایک ورکنگ جرنلسٹ کو حکومت کی فلاحی اسکیمات ہیلتھ کارڈ، اراضی کے پٹہ جات سے مستفید کیاجائے گا۔ IIHF چیئرپرسن ڈاکٹر کویتا ریڈی نے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی فرد کیلئے صحت کی برقراری کیلئے متوازن غذاء اور روزآنہ چہل قدمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ صحافیوں کو ہیلتھ کارڈ کی تقسیم دراصل صحت کا تحفظ ہے اور کسی بھی خانگی دواخانے میں مفت طبی خدمات کا تصور ہی نہیں ہے۔ جبکہ ویلنس ہاسپٹل نظام آباد صحافی اور افراد خاندان کو طبی خدمات کی فراہمی کیلئے آگے آنا بہترین اقدام ہے۔ ویلنس ہاسپٹل ایک بھروسہ کا نام ہوگیا ہے۔صحتمند سماج کیلئے میڈیا عوام اور حکومت کے درمیان اہم رابطہ ہوتا ہے

 

۔قبل ازیں نظام آباد پریس کلب صدر پنچاریڈی سریکانت، جنرل سکریٹری سبھاش واگھمارے نے خیر مقدم کرتے ہوئے ویلنس ہاسپٹل نظام آباد انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کے افراد خاندان کے علاج کیلئے آگے آنا اور ہیلتھ کارڈ کی اجرائی عمل میں لانا ملک کی تاریخ میں قابل تقلید اقدام ہے۔ ویلنس ہاسپٹل وائس چیرمین بھارگو اور ڈائرکٹر اسد خان نے مخاطب کرتے ہوئے بتایاکہ ویلنس ہاسپٹل تلنگانہ ریاست کے مختلف مقامات پر 7ہاسپٹلس قائم کئے گئے ہیں اور بہت جلد امیر پیٹ حیدرآباد میں 8واں ہاسپٹل کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ صحافیوں اور فن کاروں کو طبی علاج کی فراہمی کیلئے ہر ممکن تعاون و مدد کی جائے گی۔

 

بعد ازاں پریس اکیڈمی چیرمین کے سرینواس ریڈی، IIHF چیئرپرسن ڈاکٹر کویتا ریڈی کے ہاتھوں صحافیوں میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پرڈی پی آر او نظام آباد مسرز پدما شری،ویلنس ہاسپٹل ڈائرکٹرمبین خان، سینئرجرنلسٹ احمد علی خان،اشفاق احمد خان پاپا، محمد یوسف الدین خان، ایم اے ماجد، ایم اے رؤ ف آعظمی، محمد فیروز خان، محمد بلیغ احمد، محمد غفار احمد، محمد جبار احمد، ساجد اختر، محمد غوث، عتیق احمد خان،افضل خان، عثمان علی شوکت، یٰسین علی افسر، سہیل خان، محمد عبدالعزیز، عظمت، مرزا افسر بیگ،عقیل احمد نیازی، متین بن سالم،یونس خان، شریف، ببولی نرسیا، راجیش، گوویند راجو، راجکمار، سنگیتا، راجو نواتلنگانہ کے علاوہ کثیر تعداد میں پرنٹ و الکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کرتے ہوئے ہیلتھ کارڈ حاصل کئے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *