’دی نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق آئی آر جی سی کمانڈر میجر جنرل احمد واحدی کو آئی آر جی سی کے تجربہ کار رہنما اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری محمد باقر ذوالفقار کی مکمل حمایت حاصل ہے۔


i
’دی نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ میں ریجنل اینالسٹس (علاقائی تجزیہ کاروں) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی ’اسلامی انقلابی گارڈ کور‘ (آئی آر جی سی) نے ملک کی ملٹری اور مذاکرات کرنے والی سفارتی ٹیموں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی کمانڈر میجر جنرل احمد واحدی اور ان کے قریبیوں نے ملک کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے گزشتہ کچھ دنوں میں ’آبنائے ہرمز‘ میں کافی کشیدگی بڑھ گئی ہے اور ایران نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن معاہدہ سے بھی دوری اختیار کر لی ہے۔
واشنگٹن میں واقع ’انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار‘ (آئی ایس ڈبلیو) کا کہنا ہے کہ اقتدار کی اس منتقلی کی وجہ سے وزیر خارجہ عباس عراقچی جیسے لیڈران کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔ عراقچی نے ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت کے بعد آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اشارہ دیا تھا، لیکن آئی آر جی سی نے ان کے فیصلے کو پلٹ دیا۔ آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ ایران کے بندرگاہوں کی گھیرا بندی ختم نہیں کرتا، تب تک یہ راستہ بند ہی رہے گا۔
’دی نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق احمد واحدی کو آئی آر جی سی کے تجربہ کار رہنما اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری محمد باقر ذوالفقار کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ان دونوں نے مل کر آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ حالیہ جنگوں میں ایران کی روایتی فوج کو کافی نقصان ہوا تھا، اس لیے اب وہاں صرف آئی آر جی سی کی تیز طرار چھوٹی کشتیاں تعینات ہیں۔ ہفتہ اور اتوار کو ایران نے اس راستے سے گزرنے والے کم از کم 3 جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے سینکڑوں جہاز وہاں پھنس گئے۔
واضح رہے کہ ذوالفقار کو رواں ماہ ایران کے مذاکراتی وفد میں شامل کیا گیا تھا، تاکہ وہ آئی آر جی سی اور سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے احکامات کو نافذ کروا سکیں۔ ’آئی ایس ڈبلیو‘ نے بتایا کہ ذوالفقار نے عراقچی کی شکایت سینئر رہنماؤں سے کی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ عراقچی ’ایکسس آف ریسسٹنٹ‘ کو لے کر نرم رخ اختیار کر کے اپنی حد پار کی ہے۔ اسی ناراضگی کے بعد حسین تائب (سابق آئی آر جی سی انٹیلی جنس چیف) کے کہنے پر پوری ٹیم کو واپس تہران بلا لیا گیا۔
’دی نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ کہتی ہے کہ اب ایران میں تمام بڑے فیصلے احمد واحدی اور مجتبیٰ خامنہ ای ہی لے رہے ہیں۔ مجتبیٰ گزشتہ کچھ وقت سے کسی بھی عوامی پروگرام میں نظر نہیں آئے ہیں، کیونکہ وہ گزشتہ فضائی حملوں میں زخمی ہو گئے تھے۔ اب عباس عراقچی اور محمد باقر غالیباف جیسے لیڈران کے پاس فیصلے لینے کی کوئی طاقت نہیں بچی ہے۔ ’آئی ایس ڈبلیو‘ کے مطابق ایسی صورتحال میں مغربی ممالک کے ساتھ کسی بھی طرح کی بامعنی بات چیت ہونا تقریباً ناممکن ہے۔
دی نیویارک پوسٹ نے لکھا ہے کہ ان واقعات نے واشنگٹن کے ان دعووں کو غلط ثابت کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بڑے افسران کے مارے جانے کے بعد ایرانی حکومت کے رویے میں تبدیلی آئے گی۔ فی الحال منگل تک کے لیے ایک کمزور جنگ بندی نافذ ہے، لیکن جس طرح کے حالات بن رہے ہیں، اس سے خطے میں امن قائم رہے گا یا نہیں، اس پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
