
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت کے وزیر زراعت اور پارلیمنٹ رکن آوی دیختر نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے کامیابی کے ساتھ امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل کیا۔
تفصیلات کے مطابق، دیختر نے عبرانی ریڈیو چینل سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل، امریکہ کو جنگ کے لیے متحرک کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام میں اسرائیل کی سیاسی قیادت، بشمول وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر رون درمر نے کلیدی کردار ادا کیا۔
دیختر نے ایران کو اسرائیل کے خلاف دشمنی میں مرکزی محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی شمولیت ایک تاریخی واقعہ ہے جو اسرائیل کے قیام کے بعد کبھی نہیں ہوا۔ یہ جنگ بغیر امریکہ کے ممکن نہیں تھی۔
یہ اعترافات امریکی سیاست میں بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ سابق نائب صدر اور صدراتی امیدوار کمیلا ہیرس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت بے رحم اور ناکام ہے اور نیتن یاہو نے امریکی صدر کو ایران کے خلاف فوجی اقدام پر مجبور کیا، جس کے خلاف امریکی عوام تھے۔
ذرائع کے مطابق، اس جنگ کے ذریعے جزیرہ ایپسٹین کے اسکینڈل سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کی گئی۔ ایپسٹین کے جنسی جرائم اور اسرائیلی جاسوسی سرگرمیوں سے متعلق شواہد منظر عام پر آئے، جن میں ٹرمپ کے تصاویر بھی شامل تھیں، جس سے امریکی صدر کے ملوث ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
