ایران کبھی جنگ بڑھانے کا خواہاں نہیں رہا، صدر پزشکیان

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزارت سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے دورے اور انتظامی جائزہ اجلاس کے دوران کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی بھی جنگ کو وسعت دینے کا خواہاں نہیں رہا اور تنازعات کا جاری رہنا کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔

صدر کو اس موقع پر ملک میں اعلیٰ تعلیم کی تازہ صورتحال، حالیہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والے خصوصی حالات میں جامعات کی کارکردگی، بعض تعلیمی اداروں کو پہنچنے والے نقصانات اور سائنسی و تحقیقی سرگرمیوں کے تسلسل سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔

انہوں نے تعلیم کے تسلسل، جامعات میں بحرانی حالات کے مؤثر انتظام اور سائنسی سرگرمیوں کو فعال رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران صدر پزشکیان نے ملکی انتظامی اور تعلیمی شعبوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے انتظامی اور حکومتی ڈھانچے میں جو امور انجام پا رہے ہیں وہ ملازمین کے تعاون اور محنت کا نتیجہ ہیں۔ اگر خدا کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو ملک کو کہیں زیادہ سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

صدر نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں علاقائی اور بین الاقوامی حالات، بالخصوص امریکا اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی حالیہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کو پھیلانے کے درپے نہیں ہے اور کشیدگی کا تسلسل کسی بھی فریق کے حق میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل کشیدگی میں اضافے میں نہیں بلکہ عقل مندی، مذاکرات اور مزید تباہی سے گریز میں ہے۔

پزشکیان نے خطے میں ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض طاقتیں خطے کے ممالک کو اختلافات اور تنازعات میں الجھانا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں، جبکہ خطے کے عوام کو اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ایسے طرزعمل کا مقابلہ کرنا چاہیے اور تعاون و ہم آہنگی کے راستے کو مضبوط بنانا چاہیے۔

صدر نے ملک کی جامعاتی برادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں آج ملک کی کامیابیاں سائنسدانوں، اساتذہ اور علمی شخصیات کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ جہاں بھی علم و دانش نے میدان میں قدم رکھا، وہاں قیمتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ اور معاشرے کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانا چیلنجز سے نکلنے اور ملک کی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *