جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران-امریکہ میں بات چیت جاری، قالیباف کا دعویٰ ’حالیہ ہفتوں میں ہمارا پلڑا رہا بھاری‘

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’’امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ ایران نے عالمی توانائی کی سپلائی کے اہم بحری راستے ’آبنائے ہرمز‘ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔‘‘

ایرانی پرچم کی فائل تصویرآئی اے این ایس ایرانی پرچم کی فائل تصویرآئی اے این ایس

i

user

ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ 2 ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اس درمیان ایران نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری اس کی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ حالانکہ یہ بھی کہا کہ ہم حتمی معاہدے سے ابھی دور ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ہفتہ (مقامی وقت کے مطابق) کو ٹی وی پر اپنے ایک خطاب میں کہا کہ فریقین کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔ بات چیت اب تک کسی اہم موڑ پر نہیں پہنچی ہے۔ کئی خامیاں ہیں اور کچھ بنیادی باتیں اب بھی باقی ہیں۔

قالیباف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران کا پلڑا بھاری رہا۔ تہران عارضی جنگ بندی کے لیے تبھی راضی ہوا جب واشنگٹن نے اس کی شرائط تسلیم کر لیں۔ ایران کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ ایران نے عالمی توانائی کی سپلائی کے اہم بحری راستے ’آبنائے ہرمز‘ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’’دشمن کی ہر کوشش ہم پر اپنی شرائط مسلط کرنے کی تھی اور یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے حقوق کو تسلیم کروائیں۔ اس لیے بات چیت بھی جدوجہد کا ایک طریقہ ہے۔‘‘

اسی دوران ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) نے کہا کہ ملک تب تک آبنائے ہرمز سے ہونے والی آمد و رفت پر کنٹرول اور نگرانی برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے، جب تک کہ جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی اور خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایران کی مرکزی ملٹری کمانڈ، خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈ کوارٹر کی جانب سے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز پر دوبارہ سخت کنٹرول شروع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق ’ایس این ایس سی‘ نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرے گی۔ اس کے تحت جہازوں سے متعلق معلومات لی جائیں گی، اور ان کے لیے پرمٹ جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سیکورٹی اور ماحولیاتی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی اور اپنے قوانین و جنگی پروٹوکول کے مطابق بحری ٹریفک کو چلایا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *